| 86761 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے والد صاحب کے پاس 200 گز کا ایک پلاٹ ہے، جس کی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے ہے۔ والد صاحب کے دوست اس پلاٹ پر تقریباً 8 کمرے تعمیر کرا کر اسے کرایے کے لیے اٹھائیں گے۔ ہمیں آپ سے معلوم کرنا ہے کہ اس شراکت داری میں کہیں سود کا عنصر تو نہیں ہے؟ اور اس کا منافع کس حساب سے تقسیم ہوگا، کیونکہ کمرے بنانے میں تقریباً 20 لاکھ روپے لگیں گے۔ اور جو پیسے لگا رہا ہے، اس سے 5 سال کا ایگریمنٹ کریں گے تاکہ ہم اس کے پیسے اتار دیں۔ اس کے بعد کیا ہم پر ایگریمنٹ جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ وہ کہہ رہا ہے کہ پرافٹ آدھا آدھا ہوگا۔
جنابِ عالیٰ! آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہماری رہنمائی کریں اور شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے، ہمیں بتائیں، اور اگر یہ درست نہیں تو اس کی کوئی متبادل صورت بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
5 سال کا ایگریمنٹ کرکے اس دوران 8 لاکھ روپے لوٹانے کی شرط لگانا تو جائز نہیں ہے، یہ قرض دے کر نفع کی صورت میں اس پر سود لینے کے مترادف ہے۔ البتہ شرکتِ متناقصہ کا طریقہ اختیار کرکے اس عقد کو صحیح کیا جا سکتا ہے۔
شرکتِ متناقصہ کا حاصل یہ ہے کہ ابتداء میں آپ کے والد کی زمین پر ان کا دوست عمارت بنا کر دونوں شرکتِ ملک کے ساتھ شریک ہو جائیں۔ پھر ایگریمنٹ کے مطابق دونوں اپنی اپنی ملکیتوں کا کرایہ لیتے رہیں، اور آپ کے والد کا دوست اپنی تعمیر کے یونٹس بنا کر آپ کے والد کو بیچتا رہے۔ وہ آہستہ آہستہ خریداری کرتا رہے گا۔ قسط وار یونٹس خریدنے کی وجہ سے آپ کے والد کے دوست کا حصہ گھٹتا رہے گا اور اسی تناسب سے کرایہ کی رقم بھی کم کی جاسکتی ہے، جبکہ آپ کے والد کا حصہ (ملکیت) بڑھتا رہے گا اور اسی تناسب سے کرایہ بھی بڑھایاجاسکتاہے۔ پھر ایک متعین مدت، مثلاً پانچ سال کے بعد، آپ کے والد مکمل طور پر گھر کے مالک بن جائیں گے اور ان کا دوست درمیان سے نکل جائے گا۔ اس طرح ان کو اپنی رقم بھی واپس مل جائے گی اور نفع بھی حاصل ہوجائےگا، اورعقد بھی شرعی طور پر درست ہو جائے گا۔
خلاصہ یہ ہےکہ شرکت کرتے وقت بیع یا 8 لاکھ روپے لوٹانے کی شرط نہ ہو، ہاں الگ سے یہ وعدہ ہوسکتاہے کہ میں آپ کا حصہ آہستہ آہستہ خریدوں گا، اور یونٹس کی قیمت اس طرح رکھی جائے کہ آٹھ سال میں اصل رقم بمع نفع ان کو واپس ہو جائے۔ اس دوران کرایہ دونوں طے کردہ نسبت سےلیتے رہیں،اور اگر تعمیر کو خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچے تو ہر شخص اس وقت اپنی ملکیت کے تناسب سے نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔
حوالہ جات
المعاییر الشرعیۃ(رقم12):
:1المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدریجیا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله، ولا بد أن تكون الشركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة،وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحدالعقدين في الآخر.
وفیہ ایضا
لایجوزان یتضمن عقد الشرکة اأو نص یعطی أیا من طرفی المشارکةالحق فی استرداد حصتہ من ر أس مال الشرکة ........وتعتمد حصص الملکیة الخاصہ لکل طرف لتحمیل الخسارة إن وقعت وذلک فی کل طرف فترة بحسب تناقص حصة أحدالشریکین وتزایدحصة الشریک الأخرِ.....یجوزالاتفاق(فی الارباح) علی النسب بصورة مختلفة عن حصص الملکیة ،ویجوز استبقاء نسب الارباح ولوتغیرت حصص الملکیة .
اسلامی بینکوں میں شرکت متناقصہ کا طریقہ کار
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲/۸/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


