| 86763 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
اگر کسی انسان کو کوئی کام کہا جائے جو اس کا پیشہ یا بزنس ہے اور اس کام کے متعلق اس سے بار بار پوچھاجائے تو کیا یہ جائز ہے یا اسے شرک مانا جائے گا ؟جبکہ میرا ایمان یہی ہو کہ ہر کام پر قدرت اللہ ہی کی ہے انسان تو بس ایک سبب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امورعادیہ بشریہ جوانسانی طاقت کے تحت داخل ہوں اورعالم اسباب میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوں توان میں ایک دوسرے سے مدد طلب کرنااور دوسرے سے کام کا پوچھنا جائزہے، بشرطیکہ اعتماد اللہ تعالی پرہواورغیراللہ کومحض وسیلہ اورذریعہ سمجھے،جیسے ڈاکٹرسے علاج کرانااورکسی سے مالی مددمانگنا وغیرہ، اوراگران امورعادیہ میں اللہ کےسواء کسی اور کومستقل اورمؤثربالذات سمجھ کر مدددمانگی جائے تویہ شرک ہوگاہے ،لہذا صورت مذکورہ میں اگر کسی سے کام وغیرہ کا پوچھا جائے ہو یا بار بار اس سے رابطہ کیا جائےاور عقید یہی ہے کہ اللہ تعالی ہی اصل کام کرنے والی ذات ہے ،انسان تو ایک سبب کے درجہ میں ہے تو یہ شرک نہیں ہوگا ۔
حوالہ جات
فی الموسوعة الفقهية الكويتية (ج 5 / ص 15):
تنقسم الاستعانة إلى استعانةٍ باللّه ،واستعانةٍ بغيره . فالاستعانة باللّه سبحانه وتعالى مطلوبةٌ في كلّ شيءٍ : مادّيٍّ مثل قضاء الحاجات ، كالتّوسّع في الرّزق ، ومعنويٍّ مثل تفريج الكروب،مصداقاً لقوله تعالى : { إيّاك نعبد وإيّاك نستعين } . وقوله تعالى : { قال موسى لقومه : استعينوا باللّه و اصبروا }.وتكون الاستعانة بالتّوجّه إلى اللّه تعالى بالدّعاء ، كما تكون بالتّوجّه إليه تعالى بفعل الطّاعات ، لقوله تعالى : { واستعينوا بالصّبر والصّلاة }.أمّا الاستعانة بغير اللّه ، فإمّا أن تكون بالإنس أو بالجنّ . فإن كانت الاستعانة بالجنّ فهي ممنوعةٌ ، وقد تكون شركاً وكفراً ، لقوله تعالى : { وأنّه كان رجالٌ من الإنس يعوذون برجالٍ من الجنّ فزادوهم رهقاً } . وأمّا الاستعانة بالإنس فقد اتّفق الفقهاء على أنّها جائزةٌ فيما يقدر عليه من خيرٍ ، لقوله تعالى : { وتعاونوا على البرّ والتّقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان } وقد يعتريها الوجوب عند الاضطرار ، كما لو وقع في تهلكةٍ وتعيّنت الاستعانة طريقاً للنّجاة ، لقوله تعالى : { ولا تلقوا بأيديكم إلى التّهلكة } .
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
29/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


