03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“تم آزاد ہو “کہنے سے طلاق کا حکم
86796طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی ، میں نے اس سے کہا تم آزاد ہو۔میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا تھا ۔مجھے میری بیوی نے بتایاکہ آپ نے غلط الفاظ کہہ دیے ہیں اورہماری ایک طلاق ہو گئی ہے۔اس کے بعد ہم نے رجوع کر لیا۔ تقریباً چار ماہ بعد دوبارہ لڑائی ہوئی،میری بیوی نے کہا کہ مجھے طلاق چاہیے، میں نے کہا تم آزاد ہو جاؤ،سامان پیک کر لو۔ ہماری کتنی طلاقیں ہوگئی ہیں ؟دوبارہ ساتھ رہنے کی کیا شرط ہے؟

وضاحت : سائل نے استفسار پر بتایا کہ  سائل نے لڑائی کے دوران غصہ کی حالت میں اپنی بیوی سے " تم آزاد ہو" کہا تھا،بعد میں کسی مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک طلاق واقع ہوگئی ہے ۔ اس کے بعد سائل نے بیوی سے رجوع کرلیا تھا، رجوع کی صورت سائل نے یہ بتائی کہ نئے سرے سے نکاح نہیں کیا بلکہ فقط اپنی بیوی سے پوچھا تھا کہ تم دوبارہ میرے ساتھ رہنے پر راضی ہو ؟ اور پھر صلح کرلی تھی  ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"تم آزاد ہو" طلاق کے باب میں کنائی جملہ ہے، اس جملے کے ذریعہ طلاق اُس وقت واقع ہوتی ہے جب شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو، یا اگر عورت بار بار طلاق کا مطالبہ کر رہی ہو، اور شوہر اُس کے مطالبے کے جواب میں یہ جملہ کہے، یا شوہر غصے کی حالت میں اس جملے کو کہے، تو ان سب  صورتوں میں  بیوی کو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور آخری دونوں صورتوں میں اگر شوہر یہ دعویٰ کرے کہ اُس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، تو قضاءً شوہر کا یہ دعویٰ معتبر نہیں ہوگا۔

سوال میں ذکر کردہ صورت  کے مطابق جب شوہر نے پہلی مرتبہ بیوی سے "تم آزاد ہو" کہہ دیا تو اس سے  ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اور  طلاقِ بائن کے بعد دوبارہ  ساتھ رہنے کے لیے نیا نکاح کرنا ضروری ہے، اور نکاح کے بغیر مرد او رعورت کا ساتھ رہنا ناجائز ہے، اس لیے آپ دونوں اب تک نکاحِ جدید کے بغیر ایک ساتھ رہنے پر  توبہ و استغفار کریں،طلاق بائن کے بعد رجوع معتبر نہیں ۔

دوسری مرتبہ بیوی کے طلاق کے مطالبہ پر "تم آزاد ہو"کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ طلاق بائن کے بعد دوسری طلاق بائن واقع نہیں ہوتی ،نیز دوسری بار چارماہ کے بعد طلاق کے الفاظ کہے ہیں جو غالباً عدت کے بعد کہے گئے ہیں جن کا اعتبار نہیں  ۔اب دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کریں، نیز اس نکاح کےلیےنیا مہر مقرر کرنا ضروری ہے، اور آئندہ شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

رد المحتار (11/179):

والحاصل أن الأول [ما يحتمل الرد] يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة. والثاني[ما يصلح للسب] في حالة الرضا والغضب فقط، ويقع في حالة المذاكرة بلا نية. والثالث [ما لايحتمل الرد، وما لا يحتمل للسب] يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 409):

 (‌وينكح ‌مبانته ‌بما ‌دون ‌الثلاث ‌في ‌العدة ‌وبعدها ‌بالإجماع)  .

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

06/شعبان 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب