| 86835 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا اسلامی سیریز دیکھ سکتے ہیں، جیسے حضرت عمرؓ کی، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی یا دیگر اسلامی فلمیں/ Islamic Movies جو بنی ہوتی ہیں؟ کیا یہ سب اور ایسی ہی دیگر سیریز دیکھنا جائز ہوگا؟ ہم یہ نیت رکھتے ہیں کہ ہمیں اسلامی تاریخ اچھے طریقے سے معلوم ہو۔ اگر یہ دیکھنا جائز ہوگا تو ہم اسے جاری رکھیں گے، ورنہ اسے یہیں ختم کرکے دوبارہ نہیں دیکھیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ بالا سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام جہاں ہمیں دین سیکھنے سکھانے،اس کی اشاعت و تبلیغ، اسلاف کےپاکیزہ کردار کو عملی طور پرزندہ رکھنے اورتاریخی واقعات سے سبق حاصل کرنے کا درس دیتا ہے وہاں یہ ہمیں باطل مذاہب کے برخلاف اس بارے میں کچھ اصول و آداب، وسائل و ذرائع اور طریقے بھی بتاتا ہے،اگرچہ یہ تمام وسائل وذرائع منصوص اور متعین نہیں ہیں،بلکہ اصل مقاصد کے حصول کے لیے یہ وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف بھی ہوسکتے ہیں،مگر تبلیغ ِ دین کے اصول و آداب کو توڑ کر اور اسلامی تعلیمات کو پامال کر کے جس طریقے سے تعلیم و تبلیغ اختیار کی جائےگی تو وہ اسلام کی تعلیم و تبلیغ نہیں ہوگی اور نہ ہی اس طریقے کو دینی تعلیم و تبلیغ کا طریقہ کہا جاسکتا ہے۔
نیز جدید ٹیکنالوجی اورمیڈیا کے اس دور میں جس طرح ابلاغ کے مختلف وسائل و ذرائع کی مقبولیت اور اثر انگیزی سے انکارممکن نہیں تو اسی طرح ان کے منفی اثرات اور ان کی سنگینی بھی ایک ناقابلِ انکارحقیقت ہے،جس سے باطل قوتیں اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہیں،اس لیے ایک طرف تو ضرورت کی حد تک اس جدید ٹیکنالوجی کے مختلف مؤثر پلیٹ فارمز کے ذریعےاصول وآداب کے دائرے میں رہتے ہوئےاس کے مثبت استعمال اور اس کے ذریعے تبلیغ ِ دین کو اختیا ر کرنا ،اور دوسری طرف عوام کو میڈیا کے غلط استعمال کے ذریعے باطل کا آلۂ کار بننے اور اس کی سنگینی سے بچاکران میں دینی روح بیدار کرنے اور ان کو اسلامی اقدار پرقائم رکھنے کے لیے دینی مراکز اور ماحول سےوابستہ رکھنا بھی وقت کا ایک اہم تقاضا ہے،نیز فسادکے مقابلے میں بھلائی اورسلامتی کی طرف لانا خود ایک نفس پر بھاری اور محنت طلب کام ہے،جس کے لیے مسلسل کوشش اور جدوجہد کے ساتھ ذہن سازی،افرادسازی،ادارہ سازی اور ماحول سازی کرنا پڑتی ہے۔
اس تمہید اوروقت کے مذکورہ اہم تقاضے کی روشنی میں احکامِ شریعت پر غور کرنےسے اسلامی سیریز کے نام سے موجود ویڈیوزیافلموں کے جواز کی کوئی گنجائش معلوم نہیں ہوتی،بلکہ اسلامی سیریز کے نام سے مشہور یہ ویڈیوز اور فلمیں جن میں اللہ تعالیٰ کے پیارے اورمعصوم انبیاء کرام علیہم السلام یا امتِ مسلمہ کی پاکیزہ و مقدس اور رہنما جماعت حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یا تاریخ میں دین ِ اسلام کے لیے اپنی ہمہ جہت و گرانقدر خدمات پیش کرنے والی دیگر قابلِ احترام شخصیات کی شکل و شباہت اور ان کے سیرت و کردار کو فرضی شکلوں میں پیش کیا گیا،یہ متعدد مفاسد پر مشتمل ہیں جن کا ذکر آگے آرہاہے،لہٰذا تاریخی معلومات وغیرہ کے لیے ان کا خود دیکھنا اور دوسروں کو دکھانا یادیکھنے کی ترغیب دینا ناجائز اور سخت گناہ ہے،نیز اس قسم کی ناجائز فلم سازی اور ڈرامے بنانااور انہیں اسلامی سیریزکہنا بھی غلط ہے۔
تبلیغِ اسلام اور خدمتِ دین کے ایک ترقی یافتہ ذریعے کےطور ایسی مختلف فلمیں بنانے پر پہلے بھی علماءکرام نے ان کی تردید کی ہے،کیونکہ حق کی تبلیغ و اشاعت حق طریقوں سے ہی کی جاسکتی ہے،اس کے لیےوقت ،مال و دولت، بیوی بچوں اور جان تک کی قربانی دی جاتی ہے،جبکہ اس کے مقابلےمیں فلموں کے ذریعے دین سیکھنے اور اسلام پھیلانے کا تصور آگ سے پانی حاصل کرنے کی کوشش کے مترادف ہے،ان کا اصل مقصد انسان کی نفسانیت کے لیے غذافراہم کرنا ہوتا ہے اور اکثر لوگ اسی غرض سے انہیں دیکھتے ہیں،نیز ان فلموں کا مزاج ہی ایساہے کہ وہ کبھی بھی ٹھیک ٹھیک واقعات کے مطابق نہیں بنایا جاسکتا،کیونکہ ایسا کرنے سے عوام کی نفسانی تسکین اور فلم انڈسٹری کے تجارتی مقابلے میں آگے بڑھنے کا مقصد حاصل ہونا ممکن نہیں ، جبکہ اسلام ایک اصولی اور عملی دین ہے،اس کا مقصد انسانیت کی اصلاح اور قلب وذہن کی تطہیر ہے،لہٰذا اس میں تبلیغ کے نام پر وہ راستے اختیار نہیں کیے جاسکتے جو انسانیت کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
البتہ اس دور کے تقاضوں کے پیشِ نظرتھوڑی سی تکلیف کر کےموبائل اور لیپ ٹاپ سکرین پر مستند کتابوں کے مطالعہ کے علاوہ یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ فنی ماہرین اور معتمد علماء کرام کی نگرانی میں مستند تاریخی واقعات ریکارڈ کرکے ان کے مطابق جائز اور فطری مناظر پرمشتمل تاریخی ڈاکومینٹریز/ Documentariesتیار کی جائیں،اسی طرح مستندعلماءکرام کے دروسِ قرآن وحدیث اور دروسِ سیرت وتاریخ کے عنوان سے علمی پروگرامز کا اہتمام کیا جائے، جن میں ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے ذریعے تاریخی مقامات اور واقعات کو بہتر طریقے سے واضح کیا جائے۔ بہر حال اسلامی سیریزکے نام سے مشہور ویڈیوز اور ڈراموں کی فلم بندی کرنے اوران کےدیکھنے میں شرعی طور پر درج ذیل مفاسداور متعدد قباحتیں موجود ہیں:
1-ان میں مقدس ہستیوں کو خود ساختہ شکل دے کر ان کا کردار پیش کیا گیا جوکہ ان پاکیزہ شخصیات کی گستاخی ہے،نیز ان میں شرعی احکام اوردینی ثقافت کے خلاف داڑھی نامکمل ہونے،عورتوں کے بے پردہ ہونے اور دیگر ناجائز امور کے پائےجانے کی وجہ سے ایک اسلامی اور صالح معاشرے کے بارے میں غلط ذہنیت اور تأثر دیا گیا ہے۔
2- اس فلم بندی میں جان بوجھ کر جھوٹ شامل کیا گیا ہے، کیونکہ جھوٹ کی آمیزش کے بغیر ایسے ڈرامے جاذبِ توجہ،پرکشش اور مکمل ہو ہی نہیں سکتے، اور ان میں دلچسپی بھی برقرار نہیں رہ سکتی،حالانکہ جھوٹ گناہِ کبیرہ ہےاور ایسا کرنا خود اپنی روشن تاریخ کو غیرمعتبر بنانے کی ایک طرح سے سازش بھی ہے ۔
3- اس میں عورتوں کے کردار کی وجہ سے مرد و زن کا اختلاط بھی ہے، جبکہ نامحرم عورتوں کو قصداً دیکھنا ناجائز اور
حرام ہے، شریعت نے اسے آنکھ کے زنا سے تعبیر کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں، ان کا زنا نامحرم کو دیکھنا ہے۔
4- ڈراموں میں محبت کی داستان بھی شامل کی گئی ہے، چنانچہ عشق و معاشقہ کے مواد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے اخلاق متأثر ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔
5- ان میں بیک گراؤنڈ میوزک بھی ہوتی ہے،نیز ان ڈراموں کےشوق میں دیگر اہم ذمہ داریوں میں حرج کے علاوہ اپنے قیمتی وقت کو گناہ کے کام میں ضائع کرنابھی ایک واضح بات ہے۔
6- اس قسم کے ڈراموں کو تبلیغِ دین، اصلاح اور بیداری کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پردہ اسکرین پر جو کچھ لوگوں کو دکھایا جاتا ہے اس کا اصلاحی اثر کم ہوتا ہےاور مفاسد زیادہ ہوتے ہیں،حالانکہ اصلاح کے حوالے سے ان سیریز کے علاوہ ایسے مفاسد سے پاک ،مستند اور علمی نوعیت کی ڈاکومینٹریزبناکر یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے،نیز ان کے مقابلے میں علماء ومشائخ کی اصلاحی مجالس اورکتابی مطالعے کا اثر دیر پا ہوتا ہے، اور تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے افسانوں اور ڈراموں کے بجائے مستند تاریخی کُتب ہی قلب کی تسکین کا باعث ہوسکتی ہیں۔
7-ایسی فلمیں غیرمسلموں بلکہ مسلمانوں پر بھی کوئی مثبت اور دیرپا اثرات ڈالنے میں ناکام رہیں،اس طرح کی فلموں میں جو کردار اسکرین پر دکھائے جائیں گے، ناظرین کے ذہنوں میں اس شخصیت کی وہی تصویر بن جاتی ہے، ممکن ہے وہ اداکار مسلمان ہی نہ ہو، یا مسلمان تو ہو لیکن فاسق و فاجر ہو، اداکار خواہ کچھ بھی ہولیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مرتبہ کا تو ہرگز نہیں ہوسکتا، لہٰذا اسلام کی ایسی عظیم اور مقدس ہستیوں کے ذکر کے وقت اداکاروں کی شکل و صورت ذہن میں آنا بذاتِ خود ایک بڑی قباحت ہے۔
لہٰذا اتنی ساری قباحتیں جس چیز میں موجود ہوں وہ بلاشبہ ناجائز عمل ٹھہرے گا، ایسے ڈراموں کا بنانا، ان کا دیکھنا اور ان کے دیکھنے کی ترغیب دینا شرعاً ناجائز ہے،مسلمانوں کو اس سے اجتناب اور پرہیز کرنا لازم ہے،اس لیے ہمیں بحیثیت مسلمان ایسے امور سے اجتناب کرتے ہوئے اپنی ان محسن اور عظیم پیشوا ہستیوں کی سیرت اوران کے روشن کردار کو ڈراموں کے بجائےاپنے عمل سے زندہ رکھنا چاہیے،ایسی فلمیں دیکھنے کے بجائے میڈیا کے مثبت اور جائز استعمال کی عملی کوشش کے ساتھ ساتھ علماء و بزرگانِ دین سے وابستہ رہنا چاہیے،اور مستند کتابوں جیسے اسوۂ رسول اکرم ﷺ، حیاۃ الصحابہ اورتاریخِ امتِ مسلمہ کا مطالعہ کرکےاپنی زندگی کو پوری امت کے لیے مفید اور قابلِ نمونہ بنانا چاہیے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم ( النور: 30،31):
قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك أزكى لهم إن الله خبير بما يصنعون .و قل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها و ليضربن بخمرهن على جيوبهن ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن أو آبائهن أو آباء بعولتهن أو أبنائهن أو أبناء بعولتهن أو إخوانهن أو بني إخوانهن أو بني أخواتهن أو نسائهن أو ما ملكت أيمانهن أو التابعين غير أولي الإربة من الرجال أو الطفل الذين لم يظهروا على عورات النساء ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن وتوبوا إلى الله جميعا أيه المؤمنون لعلكم تفلحون.
صحيح مسلم (4/ 2047):
حدثنا إسحاق بن منصور، أخبرنا أبو هشام المخزومي، حدثنا وهيب، حدثنا سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، قال: كتب على ابن آدم نصيبه من الزنا، مدرك ذلك لا محالة، فالعينان زناهما النظر، والأذنان زناهما الاستماع، واللسان زناه الكلام، واليد زناها البطش، والرجل زناها الخطا، والقلب يهوى ويتمنى، ويصدق ذلك الفرج ويكذبه.
الكبائر للذهبي (ص: 125):
الكبيرة الثلاثون الكذب في غالب أقواله: قال الله تعالى: {ألا لعنة الله على الظالمين}، وقال الله تعالى:{قتل الخراصون} أي الكاذبون، وقال تعالى {إن الله لا يهدي من هو مسرف كذاب}. وفي الصحيحين عن ابن مسعود قال قال رسول الله ﷺ: إن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا وفي الصحيحين أيضا أنه ﷺ: قال: آية المنافق ثلاث وإن صلى وصام وزعم أنه مسلم: إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا ائتمن خان.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
6/شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


