| 87643 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
زید اور ہندکی لڑائی ہوئی ،عمروجو ان کا بیٹا ہے اور اپنی فیملی کے ساتھ الگ گھر میں رہتا ہے نے لڑائی کے دوران ماں کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے باپ نے کہا :’’اگر تم آئندہ اس گھر میں آئے تو تمہاری ماں کو طلاق ہے۔‘‘ یہ جملہ کلام میں مختلف مواقع پر تین سے زائد مرتبہ دہرایا گیا۔ اب اگر عمرو اس گھر میں آتا ہے تو كتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عمرو کے آنے کی صورت میں اس کی والدہ (ہند)پر تین طلاقیں واقع ہوں گی اور باقی کالعدم ہوجائیں گی،البتہ اگر تکرار بنیتِ تاکید ہو تو دیانۃ ًایک ہوگی اور قضاءً تین ہوں گی۔ تین طلاقوں سے بچنے کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زید ہندکو ایک طلاق بائن دے اور عدت گزرنے کے بعد عمرو گھر میں آئے،پھر از سر نو زید ہند سے نکاح کرلے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 376):
(فروع )في أيمان الفتح ما لفظه، وقد عرف في الطلاق أنه لو قال: إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق وقع الثلاث، وأقره المصنف ثمة.(أيمان الفتح)، حيث قال: ولو قال لامرأته والله لا أقربك ثم قال والله لا أقربك فقربها مرة لزمه كفارتان. اهـ. والظاهر أنه إن نوى التأكيد يدين ح.
حمادالدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
26/ذی القعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


