| 86790 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
دو افراد نے مل کر ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا؛ فریق اول بلڈنگ کا مالک بھی ہے، اور تمام تر اشیاء (فرنیچر، کمپیوٹر لیب، وغیرہ) بھی اس کی ملکیت ہیں ، دوسرا فریق سکول چلانے کا ذمہ دار ہے یعنی پرنسپل (پرنسپل 25٪ نفع و نقصان کاحصہ دار ہےاور کوئی تنخواہ نہیں ہے) فریقین میں معاہدہ کچھ یوں طے ہوا ہے کہ سکول کے تمام تر اخراجات( تنخواہیں، بجلی بل، سٹیشنری وغیرہ) نکال کر جو نفع/نقصان کی رقم ہوگی، اسکو) 75:25)کے تناسب سے تقسیم کریں گے۔ دو سال مسلسل وہ ایسے ہی تقسیم کرتے آئے۔ دسمبر 2024 میں سکول کی کل تعداد تقریباً 540 ہے۔ دوران ِسال سکول کےتمام اخراجات (رنگ، مرمت، پیپرز، پرنٹنگ مشین، نئے لیپ ٹاپ لینا،محکمہ سے رجسٹریشن، بورڈ سے الحاق وغیرہ) دونوں فریقین اپنے حصہ کی بچت سے برابر کرتے آئے ہیں۔ اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے آمدن بہت اچھی نہیں تھی جس وجہ سے فریق اول( مالک) ایک سال کے بعد سکول سیل(بند) کرنے کی کوشش کرتے رہے، یا کسی پارٹی کو بطور حصہ دار ملانے کی کوشش کرتےرہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 اگست 2024کو پرنسپل نے (اہم وجوہات کی بنیاد پر)باہر جانے کی غرض سے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ سکول مالک کو بتایا کہ وہ تیاری کر رہے ہیں، مگر سیشن ( یعنی سالانہ امتحان دسمبرتک)مکمل کروا دیں گے۔ اس دوران فریق اول (مالک) کافی دوستوں سے سکول میں بطور مینجمنٹ اور حصہ داری کا کہتے رہے، انکو سکول کا وزٹ کرواتے رہے۔ اب 23 دسمبر کو امتحانات کے بعد فریق دؤم (پرنسپل) نے دسمبر کی 20 چھٹیوں میں فریق اول (مالک )کو نئی مینجمنٹ لانے کا کہا (یعنی خود سکول چھوڑ دیا)اورپرنسپل اپنے حصے کا25٪ (جو ہر ماہ مختلف مقدار میں ملتا تھا)مستقبل میں بھی وصول کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ، مطالبہ کی وجہ یہ ہے کہ تمام طلباء ہم دونوں اپنی محنت سے لیکر آئے ہیں، انکو محنت سے پڑھایا، اچھا رزلٹ دیا ، بطور پرنسپل تمام کاغذات اور ڈگریاں ان کے دستخط سے ہوئی ہیں اور اب میرے سکول سے جانے کے بعد ہر ماہ میرے حصے کی رقم آپ وصول کریں گے، جبکہ میرا ان طلباء پر محنت کی بنیاد پر حصہ بنتا ہے۔ فریق اول اب سکول اپنے حصے میں ہی یا کسی اور پارٹی سے مل کر چلانا چاہتے ہیں۔ کیا اس حصے کا تقاضا فریق دؤم کی طرف سے جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں دوافراد نے آپس میں جو شرکت کا عقد کیا ،یہ شرعاً "شرکتِ تقبل " کہلاتا ہے،شرکت تقبل میں عاقدین کو نفع، ان کےعمل کی ذمہ داری اٹھانے کی بناء پر ملتا ہے۔مذکورہ صورت میں عاقدین شرکت ختم کرنا چاہتےہیں،
تاہم ایک فریق مستقبل میں بھی سکول چلانا چاہتا ہے،چنانچہ مال کی تقسیم کا طریقہ کار درج ذیل ہو گا:
1۔وہ اثاثہ جات جو سکول کے قیام سے پہلے فریقِ اول کی ملکیت تھے ،ان کا مالک فریق اول ہی ہوگا، البتہ ان پر جواضافی اخراجات مشترکہ طور پر باہمی رضامندی سے کئے گئے ہیں، مثلاً رنگ و مرمت وغیرہ ، اس حوالے سے دو تجربہ کار عادل آدمی مل کر آج کے اعتبار سے عمارت کی دو طرح کی قیمت لگالیں:عمارت کی رنگ ومرمت کے بغیر اور رنگ و مرمت کے ساتھ مالیت۔یوں ر نگ و مرمت کی وجہ سے جو قیمت کا فرق آ رہا ہے ، اس میں سے فریق اول(مالک) دوسرے فریق (پرنسپل) کی جانب سے کیے گئے اخراجات کے تناسب سے اس کا حصہ ادا کردے، مثلا رنگ ومرمت پر شروع میں فریقین نے نصف نصف اخراجات کیے تھے اور آج رنگ ومرمت کے بغیر عمارت کی قیمت ایک کروڑ روپے ہو ،جبکہ رنگ و مرمت کی وجہ سے عمارت کی قیمت ایک کروڑ دس لاکھ روپے بنتی ہو، تواضافی دس لاکھ میں سے پانچ لاکھ روپے فریق اول دوسرے فریق(پرنسپل) کو ادا کردے، تاہم اگر اس رنگ ومرمت کی افادیت اب ختم ہو چکی ہو تو فریق اول پر لازم نہیں کہ وہ دوسرے فریق کو اس مد میں کوئی رقم ادا کرے۔
2۔عقدِ شرکت کے بعدمشترکہ طور پر خریدے گئے تمام اثاثہ جات کا حساب لگایاجائے گا،جس میں پرنٹنگ مشین،لیپ ٹاپ، سکول کی گڈ وِل (Good Will) اور دیگر تمام ساز و سامان شامل ہے۔ یوں سب سے پہلے مال ِ شرکت میں سے فریقین کو اصل سرمایہ واپس کیا جائے گا، اس کے بعد اگر کچھ بچے تو اسے منافع سمجھا جائے گا،لہذا اس کو طہ شدہ تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔
3۔شرکت میں جو اثاثے نقدی کی صورت میں ہوں ، ان کو بطور نقود ہی تقسیم کیا جائے گا،تاہم جو اثاثے نقود کے علاوہ ہوں، ان کو فریقین باہمی رضامندی سے قیمت کے لحاظ سے بھی تقسیم کر سکتے ہیں ۔ ( یعنی ایک فریق دوسرے فریق کو اس کے حصے کی قیمت ادا کر سکتا ہے ) یا ان اثاثہ جات کو بیچ کر ان کی قیمت باہمی طور پر اپنے حصص کے تناسب سے تقسیم کر لیں۔
تقسیم کے بعد کوئی فریق دوسرے فریق کے حصے سے نفع کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ" شرکت تقبل" میں فریقین عمل کی ذمہ داری کی بناء پر اجرت کے مستحق ہوتے ہیں،جبکہ صورت مسئولہ میں پرنسپل اب اس ذمہ داری سے بری الذمہ ہو چکے ہیں، چنانچہ اب پرنسپل کی جانب سے شرکت ختم ہونے کے بعد ماضی میں محنت سے لائے ہوئے طلبہ اور ان کو پڑھانے کے عو ض، مستقبل میں اجرت کا مطالبہ درست نہیں ۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 361):
المادة (1346) (ضمان العمل نوع من العمل، فلذلك إذا تشارك اثنان شركة صنائع بأن وضع أحد في دكانة آخر من أرباب الصنائع على أن ما يتقبله ويتعهده هو من الأعمال يعمله ذلك الآخر وأن ما يحصل من الكسب أي الأجرة يقسم بينهما مناصفة جاز، وإنما استحقاق صاحب الدكان الحصة هو بضمانه العمل وتعهده إياه كما أنه ينال في ضمن ذلك أيضا منفعة دكانة)
شرح:ضمان العمل أي تقبل العمل نوع من العمل، وعلى ذلك فضمان العمل سبب لاستحقاق الأجرة أيضا كالعمل أي أنه كما جاز تقدير قيمة زائدة لعمل أحد الشريكين باتفاقهما وتزييد حصة أحدهما في الربح فيجوز أيضا تعين قيمة لضمان العمل باتفاق الشريكين أيضا ويكون من نتيجة ذلك جواز شرط ربح للشريك الذي ضمن العمل مقابل ضمانه هذا فلذلك إذا تشارك اثنان شركة صنائع بأن وضع أحد في دكانة آخر من أرباب الصنائع على أن ما يتقبله ويتعهده هو من الأعمال يعمله ذلك الآخر وأن ما يحصل من الكسب أي الأجرة يقسم بينهما مناصفة جاز استحسانا لأن يكون أحيانا صاحب الدكان ذا جاه واحترام ولكنه غير حاذق في العمل فلذلك يمكنه أن يضع عاملا حاذقا في دكانه ليقوم بالعمل وبهذه الصورة يستفيد أحدهما من وجاهته والآخر من حذقه۔
لو شرط في الشركة عدم تقبل العامل لا تصح لأنه إذا سكت في عقد الشركة عن ذكر تقبل العامل فالسكوت الواقع يثبت حق التقبل للعامل اقتضاء فيثبت حق تقبله۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5/شعبان /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


