| 86826 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
1(بینک گارنٹی کا اجرا: اسلامی بینک عام طور پر جزوی مارجن کے ساتھ اور کسی مال کی رہن کے بدلے بینک گارنٹی جاری کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں بینک ایک مخصوص چارجز وصول کرتے ہیں۔
2( پے آرڈر: اگر گاہک کے اکاؤنٹ میں کافی رقم موجود ہو یا وہ نقد رقم جمع کرائے تو بینک پے آرڈر جاری کرتا ہے اور اس کے بدلے ایک مخصوص چارج لیتا ہے۔ تاہم، اگر گاہک کے پاس نقد رقم نہ ہو، تو کچھ اسلامی بینک گاہک کو قرض فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے ایک مخصوص فیصد وصول کرتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ بینک گارنٹی اور پے آرڈر کے معاملے میں یہ چارج کی شرح شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ ان لین دین کے شرعی اصولوں اور فقہی نقطہ نظر سے اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں تفصیل سے دلائل کے ساتھ وضاحت فراہم کرنے کی درخواست ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ نفسِ ضمانت اور گارنٹی (کفالت) پر اجرت لینا شرعاً جائز نہیں۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ کفالت دراصل مکفول عنہ (جس کی طرف سے ضمانت لی جائے) کی امانت کی شہادت ہےاور شہادت پر اجرت لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ گواہی دینے والے کی ایک اخلاقی ذمہ داری ہے جس کو بیچا نہیں جا سکتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گارنٹی(کفالت) میں ادائیگی قرض کی ضمانت ہے، جب خود ادائیگی قرض پر اضافہ لینا سود ہے اور جائز نہیں، تو اس کی ضمانت پر بھی اجرت لینا جائز نہیں۔ البتہ اسلامی بینک جب ضمانت جاری کرتا ہے، اس پر ان کے حقیقی اخراجات آتے ہیں، جیسے ضمانت نامہ تیار کرنا پھر لیگل ڈپارٹمنٹ ، شریعہ ڈپارٹمنٹ اور رسک منیجمنٹ ڈپارٹمنٹ میں اس کی جانچ پڑتال کرنا وغیرہ۔ ان امور کی انجام دہی کے لیے ملازمین، عملہ، دفتر، عمارت اور دیگر ضروری اشیاء کی ضرورت پڑتی ہے، چنانچہ ان امور کی انجام دہی کے لیے بینک کا اپنے گاہک سے (حقیقی اخراجات کی مد میں) مناسب چارجز وصول کرتا ہے۔ تاہم اجرت اور حقیقی اخراجات میں یہ فرق ہے کہ اجرت مالِ مضمون کی مقدار اور مدت کے اعتبار سے بڑھتی ہے، جبکہ حقیقی اخراجات میں مالِ مضمون کی مقدار اور مدت پیشِ نظر نہیں ہوتی۔ اجرت لینا ناجائز اور حقیقی اخراجات لینا جائز ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں گارنٹی اور پے آرڈر کے اجراء پر بینک کا مخصوص چارجز (حقیقی اخراجات کی مد میں) وصول کرنا جائز ہے۔البتہ ان اخراجات کو کسی قسم کی کمی بیشی سے مربوط کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
شرح مختصر الطحاوي للجصاص (3/ 228):
قال أحمد: الأصل في جواز الكفالة قول النبي صلى الله عليه وسلم: "الزعيم غارم"، والزعيم الكفيل.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 93):
الكفالة تنعقد تبرعا حتى لا تصح إلا ممن هو أهل التبرع.
فقہ البیوع(1074/02):
والحالة الثانية ألا يقدم المكفول عنه مبلغ الكفالة إلى البنك، ففي هذه الحالة هو ضمان محض لا يجوز أخذ الأجرة عليه، إلا التكاليف الفعلية لإصدار خطاب الضمان ونص القرار ما يأتی......... ولذلك فإن المجمع قرر ما يلي:
أولاً: أن خطاب الضمان لا يجوز أخذ الأجر عليه لقاء عملية الضمان والتي يُراعى فيها عادةً مبلغ الضمان ومدته)، سواء أكان بغطاء أم بدونه.
ثانياً: أما النفقات الإدارية لإصدار خطاب الضمان بنوعيه فجائزة شرعاً، مع مراعاة عدم الزيادة على أجر المثل، وفي حالة تقديم غطاء كلي أو جزئي، يجوز أن يُراعى في تقدير النفقات لإصدار خطاب الضمان ما قد تتطلبه المهمة الفعلية لأداء ذلك الغطاء، والله أعلم.
وحاصل هذا القرار: أن خطاب الضمان بدون غطاء لا يجوز أخذ العمولة عليه، ويجوز تقاضي النفقات الفعلية.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07 /شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


