| 86872 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مرحوم حاجی احمد علی خان کاانتقال 2013 میں ہوا،ان کےورثہ میں چھ بیٹے اورچار بیٹیاں موجود تھے،مرحوم کی بیوی کاانتقال 2009 میں ہوگیاتھا،سوال یہ ہےکہ حیدرآبادمیں بلدیہ کا 99سالہ لیزپلاٹ گورنمنٹ کی طرف سےاڈوں کومستقبل میں شہرسےباہرمنتقل کرنےکےعوض بنام حاجی احمدعلی خان دیاگیاہے، ان کی تقسیم کس طرح ہو گی ؟
تنقیح کےمطابق مرحوم کےورثہ میں سےایک وارث(یوسف کمال پاشا)کاانتقال 2021 میں ہوا،اورایک دوسرے وارث (بابرمحمود) کاانتقال 2022 میں ہوا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (چھ بیٹے اورچار بیٹیوں )میں تقسیم کیاجائےگا۔
صورت مسئولہ میں تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ حیدرآبادمیں موجود99سالہ لیزکاپلاٹ کی مارکیٹ ویلیو لگوائی جائے،جس وقت پلاٹ کومیراث کےطورپر تقسیم کرنےکاارادہ ہو، اس وقت پلاٹ کی جو قیمت بنتی ہو،اس کوورثہ کےشرعی حصوں کےمطابق تقسیم کیاجائےگا۔
ٹوٹل میراث چھ بیٹےاورچاربیٹیوں میں تقسیم ہوگی،بیٹےکو دوحصےاور ہربیٹی کو ایک ایک حصہ دیاجائےگا ۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوہربیٹےکو12.5%فیصدحصہ ملےگااورہربیٹی کو 6.25%فیصدحصہ ملےگا۔
مرحوم کےنتقال کےبعد جن ورثہ کاانتقال ہواہے،مرحوم کی میراث میں سےچونکہ ان کاحصہ بنتاہے،لہذا ان کاحصہ ان کی اولاد کےحوالہ کیاجائےگا۔
حوالہ جات
"السراجی فی المیراث "5،6 :
الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔
قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
10/شعبان 1446 ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


