03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کی رقم پر گزشتہ سالوں کی زکوة کاحکم
88528زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

 میرا کسی پر پانچ لاکھ روپے قرضہ ہے،دو تین سال ہوئے، اس نے ادا نہیں کیا، اگر وہ دے دے توکیا گزرے ہوئے سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی ہاں ، قرض کی رقم پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، البتہ اس کی ادائیگی میں شریعت نے یہ سہولت دی ہے کہ فی الحال اس کی ادائیگی لازم نہیں۔ لہٰذا مالک، یعنی قرض دینے والا، چاہے تو وصول ہونے سے پہلے ہی ہر سال اس کی زکوٰۃ ادا کرتا رہے، اور چاہے تو جتنی مقدار وصول ہوتی جائے، اس کی زکوٰۃ بمع گزشتہ سالوں کے ادا کرتا رہے۔ اور اگر پوری رقم وصول کے بعد دینا چاہے توبھی ادا ہوجائے گی مگرگزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔

حوالہ جات

وفی الشامیة :

 (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم. (كتاب الزكوة، باب زكوة المال، ج:2، ص:305، ط:ايج ايم سعيد)

وفی بدائع الصنائع( ۲؍۸۸ زکریا)

الزکاۃ وظیفہ الملک، والملک موجود، فتجب الزکاۃ فیہ إلا أنہ لا یخاطب بالأداء للحال لعجزہ عن الأداء

لبعدہ عنہ، وهٰذا لا ینفي الوجوب کما في ابن السبیل.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 266)

 (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) أي محكوم بإفلاسه (أو) على (جاحد عليه بينة) وعن

محمد لا زكاة، وهو الصحيح، ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل (أو علم به قاض) سيجيء أن المفتى به عدم القضاء بعلم القاضي (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) وسنفصل الدين في زكاة المال.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

9/3/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب