| 86857 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر کسی عورت کو طلاق کا مطالبہ کرنے پر طلاق دے دی جائے تو اُس کے حق مہر کے بارے میں آپ حضرات کی کیا رائے ہے؟حق مہر کی رقم ابھی باقی ہے، مطالبہ طلاق پر طلاق ہوجانے کے بعد وہ ادا کرنی ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عورت کی جانب سے محض طلاق کا مطالبہ کرنے سے مہر ساقط نہیں ہوتا، مہر اس وقت ساقط ہوتا ہے جب اس کی جانب سے یہ وضاحت کی جائے کہ "میرے حق مہر کے عوض مجھے طلاق دو"اورمرد اس شرط پر طلاق دیدے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ عورت کی جانب سے طلاق کے مطالبے میں مہر کے عوض ہونے کے الفاظ نہیں ہیں، اس لیے شوہر پر حق مہر کی ادائیگی لازم ہے۔
حوالہ جات
الهندية: (303/1، ط: دار الفكر)
(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/8/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


