| 86869 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مرحوم حاجی احمد علی خان کے چھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ، مرحوم احمد علی خان کا حیدر آباد میں (پاک مہران گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی گڈز کا کاروبار تھا جو کہ کرائے کی جگہ پر تھا، مرحوم کا انتقال 2013ء میں ہوا اور وہ گڈز ٹرانسپورٹ 18-2017 میں خالی ہوا ،اس کے بعد 2018 ء میں کرائے پر جگہ لی گئی جو کہ مرحوم یوسف کمال نے لی تھی ، اس درمیان کے عرصہ میں اڈاکی کوئی مستقل جگہ نہیں تھی اور ٹرک میں سامان روڈ پر رکھ کر بھرا جاتا تھا۔ اب موجودہ اڈا نئی جگہ پر چل رہا ہے، جو کہ مرحوم یوسف کمال پاشا نے لی تھی۔
2013 سے 2023ء تک اڈہ وقتا فوقت سب ہی بھائیوں نے چلایا۔ 2024 ء سے اب تک اڈہ خالد آفتاب بن احمد علی خان چلا رہا ہے جو کہ" نیو پاک مہران گڈز ٹرانسپورٹ "کے نام سے ہے۔
اب اس موجودہ صورت حال میں ایک بھائی ظفر اقبال اور تین بہنوں کا اعتراض ہے کہ اس موجودہ کاروبار میں ہمارا حصہ بنتا ہے ، جبکہ پانچ ورثہ (امان اللہ ، عبد الرحمن ، دو بھائیوں کی بیوہ بیوہ محمود ہا بر اور بیوہ یوسف کمال پاشا اور ایک بہن )کا موقف یہ ہے کہ اڈہ میں ہمارا حصہ نہیں بنتا، کیونکہ اڈہ میں والد صاحب کی طرف سے کوئی انویسمنٹ نہیں تھی، والد صاحب نے اپنی زندگی میں سب بیٹوں کو ایک ایک گاڑی لے کر دی تھی جو کہ ان کے نام اور قبضہ میں تھی ، والد صاحب کا کہنا تھا کہ جو اڈہ پر آئے گا وہی کمائے گا۔
برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ اس کاروبار میں باقی ورثہ کا بھی حق ہے یا نہیں ؟
تنقیح:سائل نےوضاحت کی مرحوم والدنےجوابتداء میں کام شروع کیاتھا،وہ کرایہ کی جگہ پر مرحوم کےانتقال سےپہلےہی وہ معاملہ ختم ہوگیاتھا،کرایہ کی جگہ واپس کردی گئی تھی۔
بعدمیں مرحوم یوسف کمال نےکرایہ کی جگہ لی اوراپنا کام شروع کیا،اسی طرح خالد آفتاب نےبھی الگ جگہ کرایہ پر لی اورکام شروع کیاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سائل کی طرف سےوضاحت اور تنقیح کےمطابق کرایہ پرجو اڈا لیاگیاتھا،وہ والدمرحوم کی زندگی میں ہی ختم ہوگیاتھا،اور اس میں والد صاحب کی طرف سےکوئی انویسٹمنٹ بھی نہیں تھی،اس لیےشرعایہ میراث شمارنہیں ہوگا،والدکےانتقال کےبعد دوبیٹوں نےجو الگ الگ جگہ کرایہ پر لی ہےاور اپنا کام شروع کیاہےوہ ان کاذاتی ہے،والدکی مرحوم کی وراثت نہ ہونےکی وجہ سےدیگرورثہ کااس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
چونکہ شرعا کرایہ دارکےانتقال سےکرایہ کامعاہدہ بھی ختم ہوجاتاہے،لہذا صورت مسئولہ میں والدمرحوم کاکرایہ کامعاہدہ شرعاختم ہوگیاتھا،اوربقول ورثہ کےوالدصاحب نےکہاتھاکہ جوبھی کام شروع کرےگا،نفع بھی اسی کا ہوگا،تووفات کےبعدجس بیٹےنےبھی کرایہ پر لےکر کام شروع کیاتونفع بھی اسی کا ہوگا۔
اہم وضاحت:سائل سےتنقیح کےدوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض ورثہ کی طرف سےیہ اعتراض بھی کیاگیاہےکہ چونکہ کمپنی (پاک مہران گڈزٹرانسپورٹ)والدکےنام سےتھی اوراسی کو دیگربیٹوں نےچلایاہےتوچونکہ والدصاحب کےنام ہونےکی وجہ سےیہ نام بھی میراث ہوگااورباقاعدہ وراثت جاری ہوگی،اس حوالےسےوضاحت یہ ہےکہ بیشک کاروباری ساکھ،گڈول ،کاروباری نام ،کمپنی کانام باقاعدہ مال شمار ہوتاہے،لیکن اس کےلیےبنیادی شرط یہ ہےکہ باقاعدہ حکومتی قوانین کےمطابق رجسٹرڈ بھی ہو،سائل کی وضاحت کےمطابق یہ نام باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں تھا،صرف نام الاٹ کیاگیاتھا،لہذاکمپنی کےنام (پاک مہران گڈز ٹرانسورٹ) کو مال شمارنہیں کیاجائےگااور نہ ہی وراثت کاحکم جاری ہوگا۔
حوالہ جات
"فتح القدير "20 / 247:
( قوله : وإذا مات أحد المتعاقدين وقد عقد الإجارة لنفسه انفسخت ؛ لأنه لو بقي العقد تصير المنفعة المملوكة به أو الأجرة المملوكة لغير العاقد مستحقة بالعقد ؛ لأنه ينتقل بالموت إلى الوارث وذلك لا يجوز )
"فقه البيوع " 276/1:
قال الشيخ تقي العثماني : حق الاسم التجاري والعلامات التجارية، وإن كان في الأصل حقاً مجرد أغير ثابت في عين قائمة، ولكنه بعد التسجيل الحكومي الذي يتطلب جهداً كبيراً وبذل أموال ، جمة، والذي تحصل له بعد ذلك صفة قانونية تمثلها شهادات مكتوبة بيد الحامل وفى دفاتر الحكومة، أشبه الحق المستقر في العين، والتحق في عرف التجار بالأعيان، فينبغي أن يجوز الاعتياض عنه على وجه البيع أيضاً، ولا شك أن للعرف العام مجالا في إدراج بعض الأشياء في الأعيان، لأن المالية، كما يقول ابن عابدين رحمه الله، تثبت بتمول الناس. وهذا مثل القوة الكهربائية أو الغاز التي لم تكن في الأزمان السالفة تعد من الأموال والأعيان . المتقومة، لأنها ليست عيناً قائمة بذاتها، ولم يكن إحرازها في الوسعة البشرية، ولكنها صارت الآن من أعز الأموال المتقومة التي لا شبهة في جواز بيعها وشراءها، وذلك لنفعها البالغ، ولإمكان إحرازها، ولتعارف الناس بماليتها وتقومها. فكذلك الاسم التجاري أو العلامة التجارية أصبحت بعد التسجيل الحكومي ذات قيمة بالغة في غرف التجار، ويصدق عليها أنها تحرز بإحراز شهادتها المكتوب۔
" رد المحتار" : 323/4:
قال العلامة الحصكفي رحمه الله : ( ويكون الكسب بينهما على ما شر طا مطلقا ).۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
17/شعبان1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


