03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رضاعت کے شبہ میں نکاح کا حکم
86865رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

میرے والدین میرے ماموں کی بیٹی سے میرا نکاح کروانا چاہتے ہیں ،لیکن میری ممانی کہتی ہے کہ جب آپ چھوٹے تھے تو میں اپنی بیٹی کو کہتی تھی کہ یہ تمہارا  بھائی ہے، باقی مجھے پتہ نہیں کہ میں نے آپ کو دودھ پلایا تھا یا نہیں اور میری ماں کو بھی اس بارے میں کچھ خبر نہیں، تو کیا میرا نکاح میری ممانی کی بیٹی سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رضاعت کے ثبوت کے لیے دو معتبر مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی ضروری ہے، صرف ایک مرد ، یادوعورتوں یاکسی ایک عورت کا قول رضاعت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے۔

صورت مسؤلہ میں آپ کے ممانی کا یہ کہنا" کہ میں اپنی بیٹی کو کہتی تھی یہ تمہارا بھائی ہے " اس سے کسی قسم کی کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی ،لہذا اگر حرمت کی کوئی دوسری وجہ نہ ہو تو آپ کے لیے اپنی ممانی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

وقال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ: ولا يجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبية كانت أو أم أحد الزوجين، ولايفرق بينهما بقولها، ويسعه المقام معها حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول، وهذا عندنا(المبسوط:5/ 137)

قال العلامة الحصكفي رحمه اللہ: و الرضاع حجته حجة المال،وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي لتضمنها حق العبد  وهل يتوقف ثبوته على دعوى المرأة، الظاهر لا؛ لتضمنها حرمة الفرج وهي من حقوقه تعالى. ( رد المحتار :3/ 225-224)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

14/شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب