| 86867 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اگرکسی نےقسطوں پہ چیزلی اورقسطیں پورےہونےسےپہلےآگےکیش پرسیل کردےاوراگربعدمیں قسط نہیں بھرےتوجس بندےنےاس سےپوراکیش دےکہ خریدے۔اس کےلیے کیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی چیزکوقسطوں پرخریدنےاورقبضہ کرنےکےبعدخریدنےوالاشرعاًمالک ہے اس کےبعدوہ آگے بیچ سکتاہےاور اس سےخریدنےوالاشخص جب بیع کےتمام شرائط پورےکررہاہے تویہ عقدثانی بھی درست ہے۔ اس کےبعدجوقسطیں مشتری اول کےذمےاداکرنالازم تھےاوروہ ادانہیں کرہاہےتواپنےفریضےمیں کوتاہی کامرتکب ہے لیکن اس سےدوسرے عقدپرکوئی اثرنہیں پڑےگا۔لہذامشتری ثانی اپنےاس ملکیت میں ہرقسم کاتصرف کرسکتاہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :أما القول فالإيجاب والقبول) وهما ركنه …وحكمه ثبوت الملك.
(رد المحتار :4/ 504)
قال العلامۃ سلیم رستم باز رحمہ اللہ :البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطه صحیح…، یلزم أن تکون المدة معلومة فی البیع بالتاجیل والتقسیط ).شرح المجلۃ :المادۃ: 245،ص 🙁 125
وقال رحمہ اللہ أیضاً :کل یتصرف فی ملکہ کیف یشاء.(شرح المجلۃ:المادۃ:1192ص:654)
فی الہندیۃ:وأما حکمہ فثبوت الملک فی ا لمبیع للمشتری للبائع وفی الثمن للبائع إذاکان البیع باتاً.(الہندیۃ:(3/3
قال العلامۃ الشیخ المفتی تقی العثمانی دامت برکاتہم العالیۃ:وكما يجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة، كذلك يجوز أن يكون أداء الثمن بأقساط، بشرط أن تكون آجال الأقساط و مبالغها معينة عند العقد، و قد يسمى: البيع بالتقسيط، و هو نوع من البيع المؤجل، و الأقساط قد تسمى نجوما.
(فقہ البیوع: 525/1)
قال العلامۃ محمد تقي العثماني رحمہ اللہ أما الأئمۃ الربعۃ وجمہور الفقہاء والمحدثین فقدأجازواالبیع المؤجل بأکثرمن سعرالنقدبشرط أن یبت العاقدان بأنہ مؤجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد.
(بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ:7)
محمدادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13شعبان المعظم1446 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن غلام محمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


