| 86893 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ ایک بینک اہلکار سائل وسیم امداد کو بینک انسویٹمنٹ کے لئے آمادہ کر رہا ہے، جبکہ وسیم امداد مشوش ہے کہ بینک کی انویسٹمنٹ میں اکثر سودی معاملات ہوتے ہیں، لہذا سائل وسیم امداد بینک اہلکار کو شرعی تسلی کا عذر پیش کرتا ہے ،جس پر بنک اہلکار تین چار باتیں واضح کرتا ہے ۔ 1۔ انویسٹمنٹ بہر صورت جائزاور حلال کاروبار میں ہی کی جائے گی۔ 2۔شرح منافع بالکل متعین نہیں ہے ۔ 3۔ نفع و نقصان میں سائل وسیم امداد شریک ہوگا۔ 4۔ رقم بینک میں رکھنے کی کوئی میعاد مقرر نہیں، جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں ۔ لہذا صورت مسئولہ میں آپ رہنمائی فرمائیں کہ بینک میں انویسٹمنٹ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو انویسٹمنٹ کی جائز صورت سے آگاہ فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
اسلامی بینک کے ساتھ معالات کا حکم
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
روایتی بینک یعنی سودی بینک کے ساتھ لین دین ناجائزہے اور اس سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔لیکن الحمد للہ آج کل اس کا متبادل اسلامک بینکنگ کا نظام موجود ہے،جس کے تحت کام کرنے والے تمام بینک سودی معاملات سے اجتناب کرتے ہوئے جائز کاروبار کرتے ہیں اوراس کا تمام کام مستند مفتیان کرام کی باقاعدہ نگرانی میں ہو رہا ہے، لہذاجب تک مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں کام جاری ہے اس وقت تک مکمل اطمینان کے ساتھ کسی بھی اسلامک بینک کے ساتھ تمام معاملات کیےجا سکتے ہیں۔
حوالہ جات
(ماخذہ:التبویب،فتویٰ: 61413)
اسلامی بینک کے ساتھ معالات کا حکم
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
16 شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


