| 87177 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں پچھلے سال جدہ سے حج پر گیا تھا۔ میں نے حدود حرم سے نیت کی، لیکن تلبیہ پڑھنا بھول گیا۔ جب بس میں بیٹھا تو وہیں تلبیہ پڑھا، لیکن اس وقت نیست ذہن میں نہیں تھی۔ پھر جب میں مٹی کی مسجد پہنچا تو وہاں یاد آنے پر بلند آواز میں تین مرتبہ تلبیہ پڑھا۔ اُس دن تاریخ آٹھ ذو الحجہ تھی۔ کیا میرے اوپر دم واجب ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
احرام کی حالت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نیت کے ساتھ تلبیہ یا کوئی ایساذ کر کیا جائے جو تعظیم پر دلالت کرے (جیسے : اللہ اکبر ، سبحان اللہ وغیرہ)۔ صورتِ مسئولہ میں، چونکہ آپ نے نیت کرنے کے بعد تلبیہ پڑھ لیا تھا، لہٰذا آپ پر دم واجب نہیں ہو گا؛ کیونکہ نیت اور تلبیہ دونوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنا لازم نہیں، بلکہ اگر نیت کرنے کے بعد کچھ دیر گزر جائے اور اس کے بعد تلبیہ پڑھا جائے تو بھی احرام صحیح ہو جائے گا۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 161):
«وأما بيان ما يصير به محرما فنقول، وبالله التوفيق: لا خلاف في أنه إذا نوى، وقرن النية بقول وفعل هو من خصائص الإحرام أو دلائله أنه يصير محرما بأن لبى ناويا به الحج إن أراد به الإفراد بالحج أو العمرة، إن أراد الإفراد بالعمرة، أو العمرة والحج، إن أراد القران؛ لأن التلبية من خصائص الإحرام، وسواء تكلم بلسانه ما نوى بقلبه أو لا؛ لأن النية عمل القلب لا عمل اللسان لكن يستحب أن يقول بلسانه ما نوى بقلبه فيقول: اللهم إني أريد كذا فيسره لي، وتقبله مني لما ذكرنا في بيان سنن الحج، وذكرنا التلبية المسنونة، ولو ذكر مكان التلبية التهليل أو التسبيح أو التحميد أو غير ذلك مما يقصد به تعظيم الله تعالى مقرونا بالنية يصير محرما.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
18/شعبان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


