| 86926 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
سوال:شوہر اپنی بیوی کو پہلے کال پر گالیاں دے، پھر ساتھ یہ بھی بول دے کہ آپ میری طرف سے فارغ ہو۔ اس صورت میں کونسی طلاق واقع ہو گی ؟دوسری بات ،مہر شوہر کو ادا کرنا پڑے گا یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"آپ میری طرف سے فارغ ہو" کے الفاظ طلاق کے لیے کنائی الفاظ میں سے ہیں اور کنائی الفاظ طلاق کے مذاکرہ،غصہ کی حالت میں یا عام حالت میں طلاق کی نیت سے بولےجائیں تواس سےطلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔چونکہ سوال سے ظاہرہوتاہےکہ مذکورہ الفاظ غصہ کی حالت میں ادا کیے ہیں لہذا مذکورہ صورت میں بیوی کوایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے۔البتہ اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتےہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرنالازم ہوگا اورآئندہ شوہر کو (اگر اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی ہے ) فقط دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ألحصکفي رحمہ اللہ تعالٰی:(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.(الدرمع الرد:(296,297/3
قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃرحمھم اللہ تعالٰی: وفي الفتاوى، لم يبق بيني وبينك عمل ونوى، يقع كذا في العتابية.(الھندیۃ:(372/1
وقال رحمھم اللہ تعالیٰ أیضا:إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها.(الھندیۃ:(472/1
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
20شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


