| 86895 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کے پاس (7) تولہ سونا ہے، اب اگر صرف سونے کو دیکھا جائے تو زکوٰۃذمہ میں لازم نہیں آتی، لیکن موجودہ حالات میں کتنی نقد رقم اس سونے کے ساتھ ہو تو زکوٰۃ لازم آئے گی ؟شرعی رہنمائی فرماکر اجرِ عظیم حاصل کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سونا اگر ساڑھے سات تولہ سے کم ہو تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی ،البتہ اگر اس کے ساتھ نقد رقم کی کوئی بھی مقدار ہو تو پھر سونے کے وزن کو نہیں دیکھا جائے گا ،بلکہ سونے کی قیمت کو نقدی میں جمع کیا جائے گا اور مجموعہ پر ایک سال گزرنے کے بعد زکوۃ واجب ہوجاتی ہے ۔
حوالہ جات
قال العلامة الکاسانی رحمه الله: فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا. (بدائع الصنائع:2/19)
قال العلامة الزیلعی رحمه الله: (وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة) أي تضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة ويضم الذهب إلى الفضة بالقيمة فيكمل به النصاب لأن الكل جنس واحد لأنها للتجارة وإن اختلفت جهة الأعداد ووجوب الزكاة باعتبارها. (تبیین الحقائق:1/281)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
21 شعبان، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


