| 86901 | تاریخ،جہاد اور مناقب کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
غزوہ کا معنی ہے جس جنگ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود شرکت فرمائیں، تو میرا سوال یہ ہے کہ جو غزوہ ہند ہے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرکت فرمائیں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لفظ”غزوہ “کا مذکورہ معنی حضرات محدثین اور سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے۔لیکن غزوہ کی یہ اصطلاح اور تعریف کسی حدیث یا نص کی بنیاد پر متعین نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی زندگی میں جن جنگوں میں شرکت فرمائی انہیں غزوہ کا نام دیا ،اور جن لشکروں میں آپ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف نہیں لے گئے انہیں آپ ﷺ نے سریہ کا نام دیا ہو، بلکہ بعد کے حضرات نے غزوہ کا مذکورہ معنی بیان کیا ہے۔چنانچہ غزوہ موتہ میں حضور ﷺ بذات خود شریک نہیں ہوئے تھے ،اس کے باوجود یہ غزوہ موتہ کے نام سے مشہور ہے ۔لہذا غزوہ ہندمیں مذکور لفظ غزوہ سے لغوی معنی(جنگ،جہاد) مراد ہے،مشہور معنی مراد نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن حجر رحمه الله : والمغازي جمع مغزى، يقال: غزا يغزو غزوا ومغزى، والأصل غزوا، والواحدة غزوة وغزاة والميم زائدة، وعن ثعلب: الغزوة المرة ،والغزاة عمل سنة كاملة، وأصل الغزو القصد، ومغزى الكلام مقصده، والمراد بالمغازي هنا ما وقع من قصد النبي صلى الله عليه وسلم الكفار بنفسه أو بجيش من قبله. (فتح الباري:279/7)
قال الشيخ محمد زكريا الكاندهلوي رحمه الله : قلت: والغزوة في اصطلاح المحدثين وأهل السير: ما خرج فيها النبي صلى الله عليه وسلم بنفسه الشريفة ويقابلها السرية، وهو ما لم يحضره بنفسه الشريفة.
(الأبواب والتراجم :557/4)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
19 شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


