| 86945 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ایک شخص اقبال دلارا اوراس کے چار بھائی اپنے والد کی سرپرستی میں کنسٹرکشن کا کام شروع کرتے ہیں اور اس میں جو رقم ملاتے ہیں وہ ایک بھائی اقبال دلارا(جو سب سے بڑے ہیں) کی انویسٹمنٹ ہے ۔باقی بھائیوں کی محنت ہوگی، ان پانچوں بھائیوں کے مابین کسی بھی قسم کا تحریری معاہدہ نہیں ہے، بلکہ صرف زبانی طور پر بڑے بھائی نے کہا کہ آپ تمام بھائی اس کاروبار میں برابر کے شریک ہیں یا حصے دار ہیں۔ مزید یہ وضاحت بھی کی کہ میرا جو ڈی ڈی ایکسچینج ہے اس کے کاروبار میں ان بھائیوں کا کوئی حق نہیں ہے۔البتہ ڈی ڈی بلڈرز میں جو کام کریں گے اس کے نفع نقصان کے ذمہ دار ہم پانچوں بھائی ہوں گے ۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جو سرپرست والد صاحب ہیں انہوں نے فیصلہ یہ کیا کہ کنسٹرکشن کا کام بند کر دیا جائے اور تمام پانچوں بھائیوں کا حصہ برابر تقسیم کر دیا جائے۔ اس دوران ایک بھائی کا انتقال بھی ہو چکا ہے اور اس کے بیٹے کو اس کا حصہ بھی دے دیا گیا ہے۔اب دیگر چار بیٹوں کو والد صاحب حصہ دینا چاہتے ہیں تو جس بیٹے نے انویسٹمنٹ کی تھی، وہ اعتراض کر رہے ہیں کہ یہ سب کاروبار میرا ہے اور آپ اسے تقسیم نہیں کر سکتے ۔تحریری طور پر کچھ بھی ان کے پاس موجود نہیں ہے، صرف زبانی طور پر سب گواہ ہیں کہ انہوں نے سب بھائیوں کے سامنے یہ کہا تھا کہ اس کاروبار میں سب برابر کے شریک ہیں مگر اب وہ اس بات سے مکر گئے ہیں۔ اور دیگر یہ بات بھی کہ اس بڑے بھائی نے جو ڈی ڈی ایکسچینج میں نقصان کیا تھا اور اس نقصان کی وجہ سے وہ خود کشی کی طرف جا رہے تھے ،تو بھائیوں نے ازراہ ہمدردی ان سے کہا کہ ایسا مت کرو، ہم اپ کا قرضہ بھریں گے اور اس سلسلے میں بھائیوں نے یا والد صاحب نے ان کو ایک ارب 32 کروڑ روپے ادا کیے اور والد صاحب کہتے ہیں کہ یہ ہم نےاپنے ڈی ڈی بلڈرز سے آپ کو یہ ادائیگی کی، جبکہ زبانی طور پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ڈی ڈی بلڈرز کےنقصان یا نفع میں تمام بھائی شریک ہیں مگر ڈی ڈی ایکسچینج کے نفع نقصان میں کسی بھائی کو کچھ نہیں دیا جائے گا، اس کے باوجودڈی ڈی بلڈرز نے ایک ارب 32 کروڑ روپے بھائی اقبال کو ادا کیے۔ اب والد صاحب کا یہ موقف ہے کہ باقی رقم تمام پانچوں بھائیوں میں برابر تقسیم کر دی جائے ۔اقبال بھائی جو سب سے بڑے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آپ کسی کو بھی کچھ نہیں دے سکتے ،کیونکہ یہ سب میرا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے پاس بھی کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہے صرف زبانی ہمارا یہ فیصلہ تھا کہ پانچوں بھائی ڈی ڈی بلڈرز کے کاروبار میں شریک ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ میں قران و حدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ:یاد رہے کہ اقبال دلارا کے والد اسٹیٹ کا کام شروع کر چکے تھے ،اس دوران اقبال دلارانے آفر کی کہ میں آپ کے ساتھ کنسٹرکشن کا کام کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد اقبال نے اس کنڈیشن پہ رقم دی کہ میرے پانچوں بھائی اس محنت میں برابر کے شریک ہوں گے اور آپ(والد) سرپرستی کریں گے، اس کاروبار میں نفع و نقصان میں پانچوں بھائی برابر کے شریک اور حصہ دار ہوں گے۔
ملحوظہ:سائل کی مزید وضاحت اورتحریرشدہ تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ بڑےبھائی اقبال کی طرف سے صرف سرمایہ تھا جبکہ دیگرچار بھائیوں کی طرف سے صرف محنت تھی ۔ نفع میں ہرایک کوبرابرفیصدی حصہ ملنے اور نقصان میں سب کی شرکت پر اتفاق ہوا تھا ،نیزیہ عقدگواہان کی موجودگی میں ہوا ہے۔اقبال نےڈی ڈی جی ایکسچینج میں جو نقصان کیاتھا،اس کی تلافی کےلیے والدیادیگربھائیوں نے ازراہ ہمدردی ان کوڈی ڈی بلڈرز (جس کا نفع سب میں مشترک تھا)سے 1ارب 32کروڑروپےاداکیےہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ صورت مضاربت کی ہے ۔جس کا اصولی حکم یہ ہے کہ نفع فریقین کے درمیان طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔البتہ کاروبار شروع کرتے وقت معاہدہ میں نفع کے ساتھ نقصان کو بھی برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی شرط لگانا جائز نہیں تھا اور نہ ہی اس شرط کا شرعاً کوئی اعتبار ہے۔ لہذا اب تک جتنانفع ہوا ہے، اس میں تمام بھائی برابرکے شریک ہیں اور اصل سرمایہ (جواقبال نے شروع میں دیاتھا)اقبال کاحق ہے۔اقبال پر شرعاًلازم ہے کہ اصل سرمایہ کےعلاوہ نفع میں اپنے بھائیوں کو ان کے حصےدےدیں۔ والدصاحب یا دیگر بھائیوں نے ازراہ ہمدردی اقبال کی جو مدد کی ہے اس پر انہیں ان شاء اللہ اجر ملےگا لیکن مذکورہ مسئلہ کے حکم پر اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
حوالہ جات
قال اللہ سبحانہ و تعالٰی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ﴾ (المائدۃ:(1
قال العلامۃ أمين أفندي رحمہ اللہ: يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح؛ إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال ؛فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب، فلا يعتبر ذلك الشرط أي يكون الشرط المذكور لغوا فلا يفسد المضاربة .( درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:(459/3
قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃ رحمھم اللہ: (كتاب المضاربة) أما تفسيرها شرعاً،فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر..... ولو قال: خذ هذا الألف فاعمل بالنصف أو بالثلث أو بالعشر، أو قال: خذ هذا الألف وابتع به متاعاً؛ فما كان من فضل فلك النصف ولم يزد على هذا شيئاً، أو قال: خذ هذا المال على النصف أو بالنصف ولم يزد على هذا جازت استحساناً، ولو قال: اعمل به على أن ما رزق الله تعالى أو ما كان من فضل فهو بيننا، جازت المضاربة قياساً واستحساناً، هكذا في المحيط".(الھندیۃ:(285/4
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
21شعبان المعظم2025ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


