03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیمرہ کرایہ پردینے کاحکم
86905جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میرا مفتی صاحب سے یہ سوال ہے کہ کیا ایڈوانس کیمروں کا رینٹل بزنس کرنا جائز ہوگا؟ یعنی ہماری کمپنی ہو اور ہم سے دوسری کمپنیز کچھ وقت کے لئے کرائے پر ہمارا کیمرہ لے کر جائیں  اور جو ہم سے کرائے پر ہمارا کیمرہ لے کر جائیں گے وہ وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو اشتہارات وغیرہ (TV Commercials) بناتے ہیں اور وہ ہمارا کیمرا اشتہار بنانے کے لیئے استعمال کریں گے جو اشتہار ٹی وی پر چلے گا، تو ایسا بزنس کرنا جائز ہے ؟تھوڑی تفصیل سے رہنمائی فرما دیجیے گا۔ جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں اگر کمپنی دوسری کمپنیوں کو کیمرہ کرایہ پر دیتی ہے اوریہ یقین ہو کہ کیمرہ صرف ناجائز کاموں کے لیے استعمال ہوگا (مثلاً بے پردہ خواتین کی تصویر کشی یا ویڈیو ریکارڈنگ، فحش قسم کی ریکارڈنگ یا موسیقی وغیرہ) یا یہ کہ جائز و ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال ہوسکتا ہے، لیکن یہ علم ہو کہ کیمرہ  ناجائز کام میں استعمال ہوگا یا معاملہ کرتے وقت اس کے ناجائز استعمال کی صراحت کی جائے، تو ایسی صورت میں یہ کاروبار ناجائز ہوگا، کیونکہ یہ گناہ کے کاموں میں معاونت کے زمرے میں آتا ہے۔

البتہ اگر کیمرہ کا استعمال صرف جائز کاموں کے لیے ہویا کمپنی کو اس کےناجائز کام میں استعمال کے بارے میں کوئی علم نہ ہو، اور نہ ہی ناجائز کام میں اس کے استعمال کی کوئی صراحت ہو، تو پھر کمپنی کا کیمرہ کرایہ پر دینے کا کاروبار جائز ہوگا۔

حوالہ جات

قال اللہ تبارک تعالی:ﵟوَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚﵞ [المائدة: 2] 

قال الشيخ المفتى محمد تقي العثماني حفظه اللہ : ويتلخص منه أن الإنسان إذا قصد الإعانة على المعصية بإحدى الوجوه الثلاثة المذكورة (أن يقصد الإعانة على المعصيه بتصريح المعصية في صلب العقد ببيع اشياء ليس لها مصرف إلا في المعصية) فإن العقد حرام لا ينعقد و البائع آثم. أما إذا لم يقصد ذلك، وكان البيع سببا للمعصية، فلا يحرم العقد، ولكن إذا كان سببا محركا، فالبيع حرام، وان لم يكن محركا، وكان سببا قريبا بحيث يستخدم في المعصية في حالتها الراهنة، ولا يحتاج الى صنعة جديدة من الفاعل كره تحريما وإلافتنزيها ...وعلی ھذا یخرج حکم بیع البناء أو إجارتہ لبنك ربوي .... وكذلك الحكم في برمجة الحاسب الآلى (الكمبيوتر) لبنك ربوی ،فإن قصد بذلك الإعانة، أو كان البرنامج مشتملاً على مالا يصلح إلا في الأعمال الربوية، أو الأعمال المحرمة الأخرى، فإن العقد حرام باطل . أما إذا لم يقصد الإعانة ، وليس في البرنامج ما يتمحض للأعمال المحرمة، صح العقد وكره تنزيها. (فقه البيوع : 1/194-193)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

21/شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب