03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مبیع قبضہ سے پہلےفروخت کرنے کا حکم
86904خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ  زید قسطوں پر سامان بیچتا ہے،تو اسے خالد نے کہا کہ مجھے فلانا قسم (موبائل کا نام بتا کر) کا موبائل قسطوں پر چاہیے ،تو زید نے دکاندار( جن کاپہلے سے زید کے ساتھ لین دین ہے )کو فون کیا کہ اس قسم کا موبائل چاہیے ،تو دکاندار نے کہا کہ موجود ہے اور میں آپ کو ساٹھ ہزار میں دوں گا، تو زید فون پر اس سے عقد کرلیتا ہے اور پھر زید وہ موبائل اسی ہزار میں خالد کو قسطوں پر فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جاؤ فلانے دکاندار سے وصول کر لو ،میں نے اس سے بات کر لی ہے۔ تو کیا یہ صورت جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں زید کا دکاندار سے موبائل خرید کرقبضہ سے پہلے  خالد(خریدار) کے ہاتھوں فروخت کرنا اور پھرخالدکودکاندارسے وصول کرنے کا کہنا یہ بیع قبل القبض(قبضہ سے پہلے فروخت کرنے)کے قبیل سے ہے جو کہ ناجائز ہے،لہذا یہ عقد فاسدہے جس کا فسخ  کرنا فریقین پر لازم ہے۔عقد کی صحیح صورت یہ ہے کہ زید دکاندار سے موبائل خریدنے کے بعدخود قبضہ کرے یا کسی تیسرے شخص کو قبضہ کا وکیل بنائے اور اس کے بعد خالد کے ہاتھوں موبائل فروخت کرکے اسے اس وکیل( تیسرے شخص) سے موبائل وصول کرنے کا کہے ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الکاساني رحمہ اللہ: و(منها) ‌القبض ‌في ‌بيع ‌المشتري ‌المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر.(بدائع الصنائع :5/ 180)

قال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ:الواحد لا يتولى طرفي العقد من الجانبين في البيع والشراء كالوكيل، وهذا؛ لأنه يؤدي إلى تضاد الأحكام. (المبسوط:28/ 33)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

21/شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب