03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیلی نار کا کھمبا لگانے اور ٹیلی نار کمپنی کے ساتھ کام کرنےکا حکم
86948اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

مفتی صاحب ! اگر کوئی شخص اپنے گھر میں ٹیلی نار وغیرہ کا کھمبا لگائے تو کیا  یہ کھمبا لگانا جائز ہے؟ اور ٹیلی نار یا دیگر کمپنیوں کے ساتھ  کام کرنا کیسا ہے؟کیا یہ جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 عام حالات میں مالی معاملات  کفار کے  ساتھ بھی درست ہیں ،خود نبی کریمﷺ نے بھی یہود کے ساتھ مالی معاملات کیے ہیں،البتہ مندرج ذیل صورتوں میں کفار کے ساتھ مالی معاملات کرنا شرعاً درست نہیں:

  1. اگر معاملہ میں مسلمان کی تذلیل ہو۔
  2.  اگر معاملہ میں مقدسات اسلامیہ کی اہانت ہو۔
  3. اگر معاملہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں معاونت کا باعث ہو۔
  4.  اگر معاملہ اسلام یا اسلامی حکمرانوں کی سیاسی مصلحت کے خلاف ہو۔

ٹیلی نار کمپنی کے بارے میں یقینی طورپر مذکورہ  بالا اشیاء میں سے کوئی چیز ثابت نہیں ،اس لیے ٹیلی نار یا دوسری کمپنیوں کا  کھمبا  لگانے کی اور ان کے ساتھ کام کرنے کی فی الجملہ گنجائش ہے۔

البتہ ناروے اور دیگر مغربی ممالک میں بعض افراد اگر اسلامی شعائر یا مقدّسات کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کریں، تو ان ممالک کابائیکاٹ کرنا ایک مؤثر طریقہ ہوتا ہے۔ بلکہ یہ ایک اسلامی غیرت اور دینی حمیت کا اظہار بھی ہوگا۔ اگر ان ممالک کے اقتصادی بائیکاٹ سے توہین آمیز اقدامات کا انسداد ہوتا ہے، تو بائیکاٹ ضرور کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

فی  شرح صحيح البخارى: عن عائشۃ أن النبي صلى الله عليه وسلم ،اشترى من يهودي طعامًا إلى أجل ورهن درعه.( شرح صحيح البخارى ـ لابن بطال :7/ 26)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله  تعالى:     قوله( وجاز إجارة بيت) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه… والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية، قال في المنح: وهو صريح في جواز بيع الغلام من اللوطي. (رد المحتار: 392/6)

 قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی :وإسلامه ليس بشرط أصلا فتجوز الإجارة والاستئجار من المسلم، والذمي، والحربي المستأمن لأن هذا من عقود المعاوضات فيملكه المسلم، والكافر جميعا كالبياعات.

(بدائع الصنائع:4/ 176)

 قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی :(و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر)  لا عصرها؛ لقيام المعصية بعينه. (الدر مع رد المحتار: 6 / 391)

 شمس اللہ

 دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

23 شعبان،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب