| 86938 | شرکت کے مسائل | مشترک چیزوں سے انتفاع کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماءومفتیان کرام اس بارے میں کہ محمد امین (مرحوم) 2015 میں فوت ہوگئے، جن کاایک عدد پانچ مرلےکا ڈبل سٹوری مکان ہےاور اس کے ورثاء میں تین بیٹے (زبیر،ابرار،عمیر) اورتین بیٹیاں ہیں۔بہنیں میکے کا بھرم رکھنے کی خاطر خاموش رہیں کہ جب بھائیوں کے پاس پیسے آجائیں گے تو وہ حصہ ادا کر دیں گے۔ طویل خاموشی کے بعد 2020 میں ایک بہن کی جانب سے حصہ کا مطالبہ کیا گیا جو کہ قبول نہیں کیا گیا ۔ اس کے بعد 2023میں دوسری بہن کی جانب سے حصے کا مطالبہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عیدالاضحی2023میں تمام بہن بھائیوں میں طے کیا گیا کہ مرحلہ وار بہنوں کو حصہ دیا جائے گا،مگر صرف زبانی بات چیت ہوئی تھی۔اس بیٹھک میں طے شدہ تمام باتیں ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے مترادف ثابت ہوئیں۔2015 کے بعد بھائیوں نے بغیر ورثاء کی اجازت کے تعمیرات بھی کیں اور کسی سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ کیاتمام ورثاء کی اجازت کے بغیریک طرفہ تصرف یا تعمیرات کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وراثت تقسیم کرنے سے پہلے تمام ورثہ کی صراحتًایادلالتًا اجازت کے بغیرمشترکہ جائیداد میں تعمیرات کرنا جائز نہیں تھا،لہذا دیگرورثہ کی اجازت کے بغیر مشترکہ مکان میں اپنی رقم سے تعمیر کرنے سے بھائی صرف تعمیر کےمالک بن گئےہیں ۔اب بہنوں کے پاس یہ اختیار ہے کہ بھائیوں کو تعمیر اکھاڑکرملبہ لےجانےکاکہیں اور زمین حصوں کے مطابق تقسیم ہو۔ اور اگرتمام ورثہ باہمی رضامندی سے اس کو تعمیر کی قیمت ادا کردیں تو یہ بھی جائز ہے۔اس کےبعدشرعی طریقہ سے تمام موروثہ جائیدادکو تقسیم کرنا اور بہنوں کوان کے حصے دینا شرعاًلازم ہے،کیونکہبہنیں بھائیوں کی طرح شرعی وارث ہیں اورشرعی وارث کو میراث سے محروم کرنا قطعاً جائز نہیں۔
حوالہ جات
أخرج الإمام البخاري رحمہ اللہ عن سالم، عن أبيه رضي اللہ عنہ، قال: قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: من أخذ من الأرض شيئًا بغير حقه ،خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين.(البخاري:439/2،رقم الحدیث:(2454
و عن أنس قال : قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم : من قطع ميراث وارثه ،قطع اللہ ميراثه من الجنة يوم القيامة.( مشکوٰۃالمصابیح:926/2،بیروت(
قال العلامۃ الکساني رحمہ اللہ :ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه.(بدائع الصنائع :(234/2
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:( بنى أحدهما ) أي أحد الشريكين ( بغير إذن الآخر ) في عقار مشترك بينهما ( فطلب شريكه رفع بنائه قسم ) العقار ( فإن وقع ) البناء ( في نصيب الباني فيها ) ونعمت ( وإلا هدم ) البناء وحكم الغرس كذلك. قوله ( وإلا هدم البناء ) أو أرضاه بدفع قيمته. (ردالمحتارعلی الدر:(268/6
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
24شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


