03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قبل ازتقسیم مشترکہ چیز سے انتفاع کاحکم
86939شرکت کے مسائلمشترک چیزوں سے انتفاع کے مسائل

سوال

والدصاحب کا چندسال پہلےانتقال ہوگیاہے۔  ایک بھائی میراث میں  بغیر بہنوں کو حصہ دیےایک کمرہ اور کچن اپنے بیٹے کے حق مہر میں دینا چاہتاہے،جوکہ اس کےاصل حصہ سےزائدہے۔جبکہ دوسری جانب ایک بہن کا مطالبہ ہے کہ پہلے میرا حق ادا کریں، اس کے بعد چاہےپوراگھرحق مہر میں لکھ دیں،ہمیں اعتراض نہیں ۔ مزید برآں حق مہر میں لکھی گئی زمین سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق رجسٹری کی حیثیت رکھتی ہے۔کیا بہنوں کے مطالبے اور واضح موقف کے باوجود تقسیمِ وراثت سے پہلےاپنےشرعی حصہ سے بھی زائداراضی ورثاء کی مرضی کےبغیربھائی اپنے بیٹے کے حق مہر میں دینے کا اختیار رکھتاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کےبھائی کےلیے مشترکہ کمرہ اور کچن  بیٹےکےحق مہرمیں دینا جائز نہیں ہے۔اس کے اوپر لازم ہےکہ تمام موروثہ جائیدادکو شرعی طریقہ سےتقسیم کرکے بہنوں کو  ان کے حصے دے دیں ،کیونکہبہنیں بھی بھائیوں کی طرح شرعی وارث ہیں اورشرعی وارث کو میراث سے محروم کرنا اللہ تعالٰی کےحکم کی نافرمانی ہے اور سخت گناہ ہے۔

حوالہ جات

 سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (13) وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ (14)﴾  )ألنساء:(13,14

ترجمہ: یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہےاور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا(آسان ترجمہ قرآن:(254/1

أخرج الإمام البخاري رحمہ اللہ  عن سالم، عن أبيه رضي  اللہ عنہ، قال: قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: من أخذ من الأرض شيئًا بغير حقه ،خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين.(البخاري:439/2،رقم  الحدیث:(2454

و عن أنس قال : قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم :  من قطع ميراث وارثه ،قطع اللہ ميراثه من الجنة يوم القيامة.( مشکوٰۃالمصابیح:926/2،بیروت(

قال العلامۃ الکساني رحمہ اللہ :ولا يجوز التصرف ‌في ‌ملك ‌الغير بغير إذنه.(بدائع الصنائع :(234/2

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

24شعبان المعظم1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب