| 86946 | حج کے احکام ومسائل | کن لوگوں پر حج فرض ہے؟ |
سوال
اگر ایک بوڑھی عورت نے موجودہ دور میں حج کے لیے اپلائی کیا ہو اور اس کا نام حج کے لیے نکل آئے، لیکن پھر اس کا شوہر فوت ہو گیا ہو اور اس کی عدت حج کے دنوں تک تقریباً 4 ماہ ہو گئی ہو اور 10 دن رہتی ہو، تو کیا وہ عورت حج کے لیے جا سکتی ہے یا نہیں ؟مہربانی فرما کر مسئلہ کی دلیل کے ساتھ وضاحت فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عدت کے دوران شرعاً حج پر جانے کی اجازت نہیں ہے ، اس لیے حج کو مؤخر کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی عورت عدت کے دوران حج کے لیے چلی جاتی ہے تو گناہ کے باوجود اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:والنوع الثاني: شروط الأداء وهي التي إن وجدت بتمامها مع شروط الوجوب، وجب أداؤه بنفسه، وإن فقد بعضها مع تحقق شروط الوجوب، فلا يجب الأداء بل عليه الإحجاج أو الإيصاء عند الموت وهي خمسة: سلامة البدن، وأمن الطريق وعدم الحبس، والمحرم أو الزوج للمرأة وعدم العدة لها. ( رد المحتار، ط الحلبي:2/ 458)
قال الشیخ محمد حسن شاہ رحمہ اللہ:والخامس: عدم عدة عليها مطلقا سواء كانت من طلاق بائن أو رجعي أو وفاة أو فسخ أو غير ذلك، فلو كانت معتدةً عند خروج أهل بلدها لا يجب عليها كما في شرح المجمع) ، وهو مشعر بأنه شرط الوجوب، وذكر ابن أمير الحاج" أنه شرط الأداء، وهو الأظهر في حكم القضاء (شرح) ، فإن حجت وهي في العدة جازت بالاتفاق، وكانت عاصية، والعدة أقوى في منع الخروج من عدم المحرم حتى منعت ما دون السفر.(غنیۃ الناسك فی بغیۃ المناسك،فصل فی شرائط وجوب الاداء،صـ:53)
محمدشوکت
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
24/شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدشوکت بن محمدوہاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


