03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گناہ سے توبہ
86884جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اسلام و علیکم مفتیان کرام میں آج خود کشی کرنے لگا تھا کیونکہ میرے چاروں طرف نا امیدی ہے میں زنا کی عادت میں گرفتار تھا پھر میں نے 8 ماہ پہلے خدا سے معافی مانگی اور اللہ تعالی سے وعدہ کیا کہ اگر میں آئندہ زنا کروں تو خدایا میرا خاتمہ ایمان پر نا کرنا تب سے آج تک میں نے اس طرف خیال بھی نہں کیا لیکن آج مجھ سے یہ گناہ کبیرہ پھر سر زد ہوگیا براہ مہربانی بتائیں میرے لیے کیا حکم ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    شریعت مطہرہ نے انسان کو اپنی فطری خواہش کو پورا کرنے لیے جائز طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جو نکاح کہلاتا ہے۔آپ کوبھی نکاح کا بندوبست کرنا چاہیے جو کہ اس وقت آپ کےلیےضروری ہے تاکہ اس گناہ سے بچا جاسکے،اگر نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہو تو آپ روزہ رکھنے کا اہتمام کرے۔

    آپ کو اللہ تعالی کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور خودکشی کی طرف قدم نہیں اٹھانا چاہیے،کیونکہ اللہ تعالی فرماتےہےکہ"آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بالیقین اللہ تعالیٰ تمام (گزشتہ) گناہوں کو معاف فرمائے گا، واقعی وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے۔  (بیان القرآن) "اور آپ کو چاہیے کہ اس گناہ سے سچے دل سے  توبہ کریں، توبہ  کا طریقہ یہ ہے کہ:

  • اس گناہ کو  فورًا  چھوڑدیں، اس سے الگ  ہوجائیں۔
  • اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت اور شرمندگی کے ساتھ  اس گناہ کی معافی مانگیں۔
  • آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں۔
  •  جب بھی گناہ کا خیال دل میں آئے تو یہ تصور کریں کہ اللہ میرے ساتھ ہے اور اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، اور وہ مجھے عذاب دینے اور دنیا و آخرت میں سزا دینے پر قادر ہے، اگر خدانخواستہ گناہ ہوگیا تو دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم اور تمام مخلوق کے سامنے بھی رسوائی ہوگی۔
  • نمازوں کے باجماعت اہتمام کے ساتھ ساتھ کثرت سےآخرمیں دی گئی دعائیں بھی اہتمام سےپڑھیں۔ توبہ کرنے کے بعد  اگر دوبارہ گناہ سرزد ہوگیا ہو تو اوپر درج طریقہ کے مطابق  دوبارہ توبہ  کرلیں ،  پھر ندامت و پشیمانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے توبہ  کریں، اور ہر مرتبہ توبہ کرتے وقت سچی ندامت ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ گناہوں کو معاف فرمائیں گے،  دینِ اسلام میں مایوسی بالکل نہیں ہے، انسان خطا کا پتلا ہے اور خطا انسان کی فطرت میں داخل ہے، لیکن بہترین ہے وہ شخص جو گناہ کرکے اس پر قائم نہ رہے، بلکہ فورًا توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی  مانگ  لے۔ـ
حوالہ جات

قلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَاتَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ  إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ‘‘ [الزمر:53۔

                                                 مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :5/ 2041)

                                من حدیث عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء . متفق عليه.

"كلّ بني آدم خطاء، و خير الخطائين التوّابون."

أخرجه ابن ماجه في سننه في باب ذكر التوبة (5/ 321 )رقم الحدیث: 4251(

عن عبد الله رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلی الله علیه وسلم : ’’ التوبة من الذنب أن یتوب.منه.ثم.لایعودفیه‘‘۔(مسندأحمد:7/299)رقم.الحدیث:4264)  
                                                                                         وفي شرح مسلم للنووي: قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: للتوبة ثلاثة شروط: أن يقلع عن المعصية، وأن يندم فعلها، وأن يعزم عزماً جازماً أن لايعود إلى مثلها أبداً، فإن كانت المعصية متعلق بآدمي، فلها شرط رابع، وهو: رد الظلامة إلى صاحبها، أو تحصيل البراء ة منه" (17/ 25)

’’اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَ التُّقَى وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنَى‘‘ (مسلم)

’’اَللَّهُمَّ ارْحَمْنِيْ بِتَرْكِ الْمَعَاصِيْ أَبَدًا مَّا أَبْقَيْتَنِيْ‘‘(ترمذی)

     (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع.(قوله: عند التوقان) …….والمراد شدة الاشتياق كما في الزيلعي: أي بحيث يخاف الوقوع في الزنا لو لم يتزوج إذ لا يلزم من الاشتياق إلى الجماع الخوف المذكور بحر.

               (قوله: فإن تيقن الزنا إلا به فرض) أي بأن كان لا يمكنه الاحتراز عن الزنا إلا به؛ لأن ما لا يتوصل إلى ترك الحرام إلا به يكون فرضا بحر. ) رد المحتار :3/ 6)

          (وأما صفته) فهو أنه في حالة الاعتدال سنة مؤكدة، وحالة التوقان واجب وحالة خوف الجور مكروه، كذا في الاختيار شرح المختار  . (الفتاوى الهندية :1/ 267)

عبدالوحیدبن محمد طاہر

دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی

۱۹ شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ

اعلانیہ گناہ کی توبہ کا حکم
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب