03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سونے پر زکوۃ کا حکم
87040زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

میرا سوال یہ ہےکہ میری شادی 2015 میں ہوئی،میری بیوی کوسونا ملا جس کی مالیت چار یا پانچ تولہ کی ہوگی۔کیا مجھ پر یا میری بیوی پر زکوۃ ہوگی؟ اگر ہوگی تو کتنی ہوگی؟30 ستمبر 2015 سے اب تک کتنی زکوۃ ہوگی ،اگر مجھ پر ہوگی تو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی شرعاً مالک پر لازم ہوتی ہے،لہذا اگر سونا آپ کی بیوی کی ملکیت ہے تو پھر زکوۃ بھی انہی پر لازم ہوگی نہ کہ آپ پر،تاہم اگر آپ ان کی طرف سے ادا کرنا چاہیں تو بھی زکوۃ ادا ہوجائیگی۔

جہاں تک زکوۃ کی بات  ہے تو اگر آپ کی بیوی کے پاس صرف چار یا پانچ تولہ سونا رہا ہے اور اس کے علاوہ نہ کوئی نقدی رہی اور نہ چاندی یا مال تجارت، تو پھر اس صورت میں نصاب پورا نہ ہونے کی وجہ سے ان پر زکوۃ نہیں،تاہم اگر ان کے پاس سونے کے علاوہ کچھ نقدی،چاندی یا مال تجارت رہی ہے، تو پھر چاندی کا نصاب پورا ہونے کی وجہ سے زکوۃ لازم ہے اورزکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس  کی مارکیٹ کی قیمت معلوم کرکے سالانہ ڈھائی فیصد کے حساب گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کردے،لیکن یاد رہے کہ سال میں قمری سال کا اعتبار ہوگا اور 30ستمبر2015 کو غالباً 16 ذوالحجۃ کی قمری تاریخ بنتی ہے ، لہٰذا ہر سال اسی قمری تاریخ کے مطابق زکوۃ نکالی جائے گی۔

حوالہ جات

قال العلامۃ المرغیناني رحمہ اللہ: ‌الزكوة ‌واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم، إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول. (الهداية ،ط   دار التراث:1/ 95)

وذکر فی الھندیۃ:ومنها: الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد. (الفتاوى الهندية:1/ 172)

قال العلامۃ الحصکفي  رحمہ اللہ:  (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. ( رد المحتار، ط الحلبي:2/ 259)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

26/شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب