| 86976 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
السلام علیکم! میں نے شئیرز کے کاروبار کے جائز ہونے کے لیے ایک شرط پڑھی تھی کہ کمپنی نے سودی قرضہ نہ لیا ہو، تو میرا سوال ہے کہ اگرچہ کمپنی نے سودی قرضہ لیا ہو اور اس کی آمدنی میں سود کی آمیزش بھی ہو لیکن اس کا اکثر و بیشتر سرمایہ حلال ہو اور اس کا کاروبار بھی حلال ہو تو اس کمپنی کے شئیرز کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل تو یہی ہے کہ ایسی کمپنیز کے شیئرز بالکل نہ خریدے جائیں جن پر تھوڑا ساسود بھی واجب ہو، تاکہ سود دینے کا گناہ لازم نہ آئے، البتہ سود کی بہتات اور شریعہ کمپلائنٹس کمپنیز کے کم ہونے کی وجہ سےمندرجہ ذیل شرائط کےساتھ کمپنی کےشیئرزخریدنے کی گنجائش ہے:
.1کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہو۔
.2 ایسی کمپنیز کے شیئرزخریدے جائیں جن کی حرام آمدنی کا تناسب مجموعی آمدن میں سے پانچ فیصد(5%)اور اس کےسودی قرضوں کا تناسب تیس فیصد(30%) سے کم ہو، اس میں بھی حرام آمدن کے تناسب سے صدقہ کرنا ضروری ہوتاہے۔واضح رہےکہ یہ شرح ان شئیرزہولڈر کےلیے رکھی جاتی ہے جنہیں کمپنی کے معاملات میں اختیار نہیں ہوتا، ورنہ کمپنی کے بانیان کےلیے کمپنی کو سودی معاملات سےبالکلیہ پاک رکھنا ضروری ہےاور عام شئیرز ہولڈر کےلیےمذکورہ بالا شرح بتدریج کم کی جارہی ہے،تاکہ کمپنی آہستہ آہستہ سودی معاملات سے مکمل پاک ہوسکے۔
.3کمپنی اگرسودی قرض لیتی ہوتوشیئرزخریدنےوالےپر یہ بھی لازم ہےکہ وہ کمپنی کے اس ناجائز فعل پر عدم رضا مندی کا اظہار کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کو خط لکھا جائےجس میں کمپنی کوسودی قرض نہ لینے کی اپیل ہو یا کمپنی کی سالانہ جنرل میٹنگ(AGM) میں سود ی قرض لینےکے خلاف آواز اٹھائی جائےکہ ہم بحیثیت شیئر ہولڈر سودی قرض لینے کی اجازت نہیں دیتے
حوالہ جات
ماخذہ:التبویب،فتویٰ:74969
قال العلامۃ المفتی محمد تقي العثماني حفظہ اللہ: أما إذا كانت الشركة نشاطها التجارى حلالاً، ولكنها تودع فائض نقودها في البنوك الربوية، وقد تقترض منها قروضاً ربوية، فاختلفت أنظار الفقهاء المعاصرين في جواز شراء أسهمها. فقالت جماعة من العلماء: إنه لا يجوز شراء أسهمها، لأن حامل السهم يشارك في هذه العمليات المحرمة، فكان مثل شراء أسهم الشركات التي نشاطها التجاري حراماً. وقال الآخرون: إن إيداع فائض النقود في البنوك الربويةعملية منفصلة عن نشاطها التجارى، فلا يؤثر على أصل النشاط، بشرط أن يكون قليلاً بالنسبة إلى نشاطها الأساسي، وقدره أكثر المجيزين أن يكون مثل هذا الإيداع أقل من ثلاثين في مائة بالنسبة إلى قيمة موجوداتها، والعائد الناتج منها أقل من خمسة في مائة من مجموع إيراداتها. وقالوا: إن حامل السهم يجب عليه أن يرفع صوته في الجمعية العمومية ضد الإقراض أو الاقتراض الربوي، ولكن إذا رفض صوته بالأغلبية، ودخل هذا الكسب المحرم في أرباح الشركة، فإنه يجب عليه أن يتخلص من هذا الكسب المحرم بالتصدق بما يُساوى حصته من الإيراد الذي دخل في الشركة تبعاً من خلال هذا الإيداع.(فقہ البیوع:(381,382/1
و في المعايير الشرعية (صفحة:567)
المساهمة أوالتعامل في أسهم شركات أصل نشاطها حلال ولكنها تودع أو تقترض بفائدة:
:2/4/3 أن لايبلغ إجمالي المبلغ المقترض بالربا، سواء كان قرضا طويل الأجل أم قرضا قصير الأجل، 30%من القيمة السوقية (Market Cap)لمجموع أسهم الشركة علما بأن الاقتراض بالربا حرام مهما كان مبلغه.
:4/4/3 أن لا يتجاوز مقدار الإيراد الناتج من عنصر محرم نسبة 5% من إجمالي إيرادت الشركة سواء كان هذا الإيردا ناتجا عن ممارسة نشا ط محرم أم تملك لمحرم، وإذا لم يتم الإفصاح عن بعض الإيرادات، فيجتهد في معرفتها ويراعي جانب الاحتياط.
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
26شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


