03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی پر ہاتھ نہ اٹھانے کی قسم کے باوجود ہاتھ اٹھانے پر طلاق کا حکم
86934طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

محترم مفتی صاحبان ! میرا نام مجاہد حسین ہے اورمیں لاہور کا رہائشی ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی عابده خواج دختر خواج محمد سے تقریبا دس سال قبل ہوئی اور اس بطن سے میرےدو بچے ہیں ،ایک بیٹی ایمان فاطمہ ہے جس کی عمر تقریبا نو سال ہے  اور ایک بیٹا زوار حسین  ہے جس کی عمر تقریبا سات سال ہے ۔آج سے  تقریباتین سال قبل لڑائی کے دوران میں نے قرآن پاک پر قسم دی کہ میں اپنی بیوی پر جان بوجھ کر یا بلاوجہ ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا اور اگر ایسا کروں تو میری طرف سے تم کو طلاق ہے۔ کچھ عرصہ بعد کسی وجہ سے میری بیوی عابدہ خواج میرے ساتھ لڑنا شروع ہوئی اور بدتمیزی کرنا شروع ہو گئی اور میرے روکنے سمجھانے کے باوجود انتہائی غلط زبان استعمال کرتے ہوئے غلط قسم کی باتیں کرنا شروع کر دیں، جس کی وجہ سے مجھے طیش آیا اور برادشت نہ کر سکا، میں نے غصے میں اس پر ہاتھ اٹھا دیا۔ میری بیوی بولی: طلاق ہوگئی ہے، آپ نے قسم کھائی تھی اور آپ نے ہاتھ اُٹھا دیا مجھ پر۔ میری راہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح طلاق ہوجاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نے قسم اٹھائی تھی کہ میں جان بوجھ کر یابلا وجہ ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ صورتِ مسئولہ میں  آپ نے  بلا وجہ  ہاتھ نہیں اٹھایا،البتہ جان بوجھ کر اٹھایا ہے ، اس  لیے ایک طلاق  رجعی واقع  ہو گئی ہے ۔ اب اگر عدت کے دوران رجوع کر لیا تو نکاح باقی رہے گا اور اگر عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہ کیا تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔اس صورت میں اگر آپ دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو آپ  کو دوبارہ نکاح کرنا ہو گا۔

حوالہ جات

 في الھندیۃ:ألفاظ الشرط: إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما. ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين. (الفتاوى الهندية1:/ 415)

محمد اسماعیل بن نجیب الرحمان

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۷شعبان ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل ولد نجیب الرحمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب