03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سیلف ہاؤ س ہائرنگ الاؤنس میں بھائی کے حصے کا حکم
86951اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

Assalamo alaikum. I am doing job in government organisation. I get 51,000 as self house hiring allowance, from my company. Our house is in the name of my father. My brother claims 15000 out of my 51,000 allowance, every month, as house is in the name of my father. I think there is no haq of brother in my house hiring allowance of 51000 coming from my company. I consume my allowance or my parents. It is only right of me or my parents and not of my brother What is shariah fatwa about this matter

محترم مفتی صاحب! میں ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں، جہاں سے مجھے 51,000 روپے ماہانہ سیلف ہاؤس ہائرنگ الاؤنس ملتا ہے۔ ہمارا گھر میرے والد صاحب کے نام پر ہے، اور میں اسی گھر میں رہائش پذیر ہوں۔میرا بھائی ہر ماہ مجھ سے 15,000 روپے اس بنیاد پر طلب کرتا ہے کہ چونکہ یہ گھر والد کے نام پر ہے، اس لیے اسے بھی اس الاؤنس میں سے حصہ ملنا چاہیے۔ میری رائے میں میرا بھائی اس الاؤنس کا حق دار نہیں، کیونکہ یہ الاؤنس میری ملازمت کے نتیجے میں مجھے ملتا ہے۔اورمیں یہ رقم اپنی ضروریات یا اپنے والدین پر خرچ کرتا ہوں۔میرے بھائی کا اس الاؤنس پر کوئی حق نہیں بنتا۔

براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ آیا میرے بھائی کا اس الاؤنس میں کوئی حق بنتا ہے یا نہیں؟ اور کیا مجھے اس سے کچھ رقم دینا ضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حکومت  کی طرف سے دیا جانے والا سیلف ہاؤس ہائرنگ الاؤنس ملازم ہی کی ملکیت ہوتا ہے۔چنانچہ جب گھر والد صاحب کی ملکیت ہے،اور والد نے گھر  بیٹوں کے درمیان تقسیم نہیں کیا   تو  اس مذکورہ الاؤنس میں بھائی کا شرعاً حق نہیں بنتا۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : ‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

(رد المحتار:61/4)

قال العلامة الأتاسي  رحمه الله : لولم يكن للأب عمل ولا كسب،بل العمل والكسب للابن ، يكون المال المتحصل للابن خاصة ؛لأن الأب حينئذ في عيال ابنه.(شرح المجلة: المادة1398،320/4 )

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۱ شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب