| 86975 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سائیں داد نامی آدمی کی ایک بیوی فاطمہ ہے۔ فاطمہ سے سائیں داد کے 3 بیٹےاور 7 بیٹیاں ہیں۔ سائیں داد نے پھر دوسری شادی ایک بیوہ آمنہ نامی خاتون سے کی، جن کی پہلے شوہر سے اولاد ہیں، لیکن سائیں داد سے نہیں ۔اب سائیں داد بھی فوت ہوگیا ہےاور آمنہ بھی فوت ہوگئی۔ کیا آمنہ کے پہلے شوہر کی اولاد سائیں داد کے مال کی حقدار بن سکتی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوتیلی اولاد کا سوتیلے باپ کی جا ئیدا میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا،لہذاآمنہ کی پہلےشوہرسے اولادسائیں داد کےمال کی حقدار نہیں،البتہ آمنہ کا انتقال اگر سائیں داد کے بعد ہوا ہے تو آمنہ کوسائیں داد سےجوحصہ میراث میں ملاتھا،اس میں آمنہ کی اولاد بطور ورثہ حقدار ہیں۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفي رحمه الله:ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى ،خلافا لهما وللشافعي. (رد المحتار : 774/6)
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


