03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربہ میں نفع و نقصا ن کا حکم
86660مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

مضاربہ  میں نفع و نقصا ن کا حکم

  میں نے ایک دوست کو تین لاکھ روپے کاروبار کے لیے دیےہیں اور دونوں نے رضامندی سے یہ طے کیا کہ نفع و نقصان میں میرا ایک تہائی حصہ ہوگا اور دوسرا دوست نفع و نقصان میں دو تہائی  کا شریک ہے ،یعنی میری جانب سے رقم اور میرے دوست کی  جانب سے محنت  ہے  ۔ راہنمائی فرما ئیں  کہ کیا میرے لیے یہ کمائی سود کے زمرے میں تو نہیں آتی؟(ایک عالم بیان میں فرما رہے تھے  کہ اس طرح انویسٹمنٹ کرنا سود ہے، کیونکہ ایک مسلمان  آرام سے گھر بیٹھ کر انویسٹمنٹ کرتا ہے اور دوسرے مسلمان کی محنت کی  کمائی کھاتا رہتاہے، یہ سود ہے۔)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دوافراد کے درمیان ایسا معاملہ ، جس میں ایک فریق (رب المال ) سرمایہ فراہم کرےاور دوسرے  فریق (مضارب)کی جانب سے محنت  ہو اور حاصل ہونے والا منافع پہلے سے طے شدہ تناسب کے مطابق  باہمی طور پر تقسیم کیا جائے ،یہ  شرعاً "مضاربہ"کہلاتا ہے۔ مضاربہ کے معاہدے   میں  فریقین  نفع کے فیصدی  تناسب کوباہمی رضامندی سے  طے کر سکتے ہیں، لیکن نقصان کی صورت میں خسارے کو پہلے نفع سے پورا کیا جاتاہے ، پھر بھی  نقصان پورا نہ ہو، تو باقی خسارہ اصل سرمایے(investment) سے پورا کیا جاتا ہے ، یعنی نقصان کی ذمہ داری  محنت کرنے والے(مضارب ) پر نہیں ہوتی ، اس کی صرف محنت رائیگاں جاتی ہے ۔

صورت مسئولہ میں فریقین کے مابین  نفع کے حوالے سے جو تناسب طے کیا گیا  ہے ،شرعا ً اس میں کوئی حرج نہیں ، تاہم   عمل کرنے والے( مضارب)  کو دو تہائی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں اور شرعا ً اس شرط کا بھی  کوئی اعتبار  نہیں ہے۔نقصان کی صورت  میں خسارے کو  اوپر مذکور شرائط کے مطابق پہلے نفع سے اور پھر   اصل سرمایہ (investment)سے پورا کیا جائے گا  ۔

یہ بھی واضح رہے کہ   سود  اس وقت لازم آتا ہے جب کوئی شخص  کسی مالی معاملےمیں، مشروط طور پر بغیر کسی عوض کے نفع   وصول کر رہا ہو۔ عقد مضاربہ میں  اگرچہ  سرمایہ فراہم کرنے والا (رب المال) عمل نہ کرنے کے باوجود   نفع وصول کرتاہے،  لیکن  یہ نفع بلا عوض نہیں ہوتا ، بلکہ سرمایہ فراہم کرنے والا نقصان کی ساری ذمہ داری(رِسک)   برداشت کر رہا ہوتا  ہے،جس کے بدلے میں وہ نفع کا مستحق ہوتا ہے ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 200):

‌المضاربة ‌عقد ‌على ‌الشركة ‌بمال ‌من ‌أحد ‌الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر".

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 459):

(المادة 1428) - (‌يعود ‌الضرر ‌والخسار ‌في ‌كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط) . ‌يعود ‌الضرر ‌والخسار ‌في ‌كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط. انظر المادة (83) أي يكون الشرط المذكور لغوا فلا يفسد المضاربة (الدرر) ؛ لأن هذا الشرط زائد فلا يوجب الجهالة في الربح أو قطع الشركة فلا تفسد المضاربة به حيث إن الشروط الفاسدة لا تفسد المضاربة (مجمع الأنهر)

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (3/ 469):

(هو ‌فضل ‌مال ‌بلا ‌عوض ‌في ‌معاوضة مال بمال)

هو فضل مال) ولو حكماً فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة كالبيع بشرط فإنهم جعلوها من الربا وهذا أولى من قول بعضهم المقصر تعريف الربا المتبادر عند الإطلاق وذلك إنما هو رد الفضل (بلا عوض) خرج به ما سيأتي في الصرف من أنه لو باعه كر بر وشعير بضعفهما جاز بصرف الجنس إلى خلاف جنسه فضل قفيزي شعير على قفيز بر فإنه بعوض (في معاوضة مال) خرج به الهبة.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

26/رجب /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب