03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن نکاح کے متعلق ایک صورت کا حکم(فون پر لڑکا لڑکی طرف سے نکاح کا وکیل بنا)
86959نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا نام…….. ہے اور میں لاہور سے ہوں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل واٹس ایپ کے ذریعے ایک لڑکے سے دوستی کرلی تھی، جو کہ ایک عالم دین بن رہا ہے اور تقریباً اپنے پانچویں یا چھٹے سال میں ہے۔ ابتدا میں صرف اس سے مسلہ پوچھنے کے لیے رابطہ کیا تھا، پھر بات آگے تک بڑھ گئی بعد میں ہمیں احساس ہوا کہ غیر محرم سے بات کرنا شرعاً درست نہیں اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اسی وجہ سے، ہم نے گناہ سے بچنے کے لیے نکاح کر لیا۔ اور یہ طے کیا کہ جب حالات بنیں گے ہم ایک ہو جائیں گے۔ نکاح کے وقت وہ خود میرا وکیل بنا تھا اور نکاح میں اس کے دو دوست گواہ تھے۔ پہلے اس نے مجھ سے اختیار لیا کہ میں آپ کا نکاح کردوں تو میں نے اسے اجازت دی اس وقت کال چل رہی تھی اور سپیکر بھی آن تھا ساتھ بیٹھےگواہ بھی سن رہے تھے۔ اس لڑکے نے خود ہی وکیل بن کر خود ہی اپنے آپ کو قبول کیا تھا خطبہ بھی پڑھا تھا اور حق مہر بھی طے ہوا تھا۔ اب مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ اس طرح نکاح درست طور پر ہوا ہے یا نہیں؟ اگر نکاح درست ہوا ہے تو اس کا حل بتائیں کہ میں اس سے کیسے علیحدہ ہو سکتی ہوں؟ نکاح کے بعد، میرے لیے مزید مسائل کھڑے ہو گئے۔ وہ اکثر ایسی باتیں کرتا ہے جن کی وجہ سے میرے لیے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ میں اگر اسے اس قسم کی باتوں سے منع کروں تو وہ کہتا ہے کہ "تم میری بیوی ہو، میں تم سے اس طرح بات کر سکتا ہوں۔ " اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنے جذبات پر کیسے قابو پاتا ہے، لیکن میرے لیے یہ مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور میں گناہ میں مبتلا ہو جاتی ہوں۔ میں اس نکاح سے نکلنا چاہتی ہوں اور کسی اور جگہ شادی کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے اس سے کئی بار کہا کہ مجھے طلاق دے دیں، اتنا روئیں اللہ کے واسطے طلاق دیدے لیکن وہ نہ تو طلاق دے رہا ہے اور نہ ہی میرا مکمل حق ادا کر رہا ہے۔

 میں نے اس سے کہا کہ آپ گھر والوں کو بھیج کے میرا رشتہ مانگ لو پر وہ ایسا بھی نہیں کرنا چاہتا صرف یہی کہتا ہے کہ "ہم جنت میں ملیں گے۔" میں ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوں۔ میں نے کئی بار خودکشی کا سوچا، لیکن پھر سوچتی ہوں دنیا تو جیسی بھی گزر جائے گی پر اپنی آخرت تو برباد نا کروں۔ میں یہ معاملہ کسی کو نہیں بتا سکتی اور کسی سے مشورہ لینے سے بھی گھبرا رہی ہوں۔ نہ میں جی سکتی اور نہ مر سکتی ہوں، بس ایک بے بسی کی کیفیت میں ہوں۔ میرا اللہ جانتا ہے اس وقت میں کس حال میں ہوں۔ براہ کرم، مجھے اس کا شرعی اور عملی حل بتائیں کہ میں کیا کروں؟ میں کسی ایسے طریقے کی تلاش میں ہوں جس سے میں اللہ کے احکام کے مطابق صحیح فیصلہ کر سکوں اور اپنی زندگی کو گناہ سے پاک رکھ سکوں۔ اور کہیں پے شرعی اور قانونی طور پر شادی کرکے اپنا گھر بسا سکوں۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا فی الدنیا والآخرۃ.

ویڈیوکال پرنکاح کی صورت میں اتحاد مجلس نہ ہونےکابیان

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عاقلہ بالغہ لڑکی ولی(والدوغیرہ)کی اجازت کےبغیراگرغیرکفو(لڑکالڑکی ہم پلہ نہ ہوں ) میں نکاح کرلےتووہ نکاح شرعامنعقدنہیں ہوتا،ہاں اگرلڑکی نےکفومیں نکاح کیاہوتووہ نکاح شرعابھی منعقدشمارہوتاہےاورمعتبرہوتاہے۔نکاح کے صحیح ہونے کے لیے لڑکے اور لڑکی یا ان کے وکیلوں کا شرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے۔صورت مذکورہ میں  چونکہ آپ نے اس لڑکے کو وکیل بنایاتھا اوراس نے مجلس نکاح میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیاہے، تو ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کی وجہ سے یہ نکاح صحیح ہےاور اگرآپ نےکفومیں نکاح کیاہوتو ایسا نکاح منعقد  بھی ہوتا ہے۔ البتہ نکاح کی بہتر اور پسندیدہ صورت یہ ہے کہ نکاح اعلانیہ ہو،متعاقدین یا ان کے وکیل گواہوں کے ساتھ مجلس میں موجود ہوں۔

آپ کا لڑکے سے اس طرح فون پر بات چیت کرنا پھر والدین سے چھپ کر نکاح کر لیناحیا کے بالکل خلاف ہے ۔ نکاح  بڑوں کی راہنمائی اور سرپرستی میں کرنا چاہیے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جو نکاح اس طرح اپنی رائے سے والدین کی اجازت و مرضی کے بغیر کیا جاتاہے وہ دیر پا نہیں ہوتا۔نکاح تو ایسی چیز ہے جو مذاق میں بھی ہو جاتا ہے، لہذا بہت احتیاط کرنی چاہیے۔

اب جبکہ آپ نے اپنی رضامندی سےیہ نکاح قبول کرلیا ہےتو آپ کو بلاوجہ اس کو رد کرنے کی اجازت نہیں ہے،آپ اس نکاح کونبھائیں اور اس کی اطلاع اپنے خاندان اور شوہر کے خاندان کو دیدیں اوربڑوں کے ذریعےشوہر کو ذمہ داری لینے پر مجبور کریں۔اگر وہ آپ کو رکھنے پر راضی نہ ہوتواس سے طلاق لے لیں۔

 https://almuftionline.com/2025/01/05/15447/           

حوالہ جات

ثم النكاح كما ينعقد بهذه الالفاظ بطريق الاصالة ينعقد بها بطريق النيابة بالوكالة والرسالة؛ لان تصرف الوكيل كتصرف الموكل وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلی الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك اما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وان فعله بغير امره فقد اجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والاجازة اللاحقة كالوكالة السابقة. 

( بدائع الصنائع: (فصل ركن النكاح، 231/2)

        قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل و وامرأتين.( الھدایة: (کتاب النکاح، 185/1)

(ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور …… أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر……. (  رد المحتار :3/ 97)

وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة….(رد المحتار :3/ 504)

فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) …….. (وله) أي للولي (إذا كان عصبة.(الدرالمختار:ص183)

عبدالوحیدبن محمد طاہر           

دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

25 شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب