| 86958 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم کیا ایسا ممکن ہے کہ خاوند چاہتا ہو کی بیوی کو تلاق نہ دے لیکں گھر والے یا پہلی بیوی زبردستی تلاق دلوا دیں اولاد کو ازیت دہنے کے بہانے انکو قتل یا نقصان پہنچنے کے ڈر سے ۔۔۔ اگر خاوند میسج کر دے لیکن نام نہ لکھے کے کسکو تلاق دی ہے لیکن ڈر سے میسج لکھ دے۔۔۔۔ راہنمائی فرمائیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر شوہر نے زبان سے الفاظ طلاق اَدا نہیں کیے اور گھروالوں کی طرف سےسوال میں ذکرکردہ حدتک جبرو اکراہ واقعتاًموجود تھاتو اس حالت میں شوہر کے میسج کرنےسےشرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی؛ لہٰذا بیوی شوہر کے نکا ح میں بدستور برقرار رہےگی۔
حوالہ جات
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية. (رد المحتار :3/ 236)
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان . (الفتاوى الهندية :1/ 379)
عبدالوحید بن محمدطاہر
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


