03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبردستی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے کہ نہیں؟
86958طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم کیا ایسا ممکن ہے کہ خاوند چاہتا ہو کی بیوی کو تلاق نہ دے لیکں گھر والے یا پہلی بیوی زبردستی تلاق دلوا دیں اولاد کو ازیت دہنے کے بہانے انکو قتل یا نقصان پہنچنے کے ڈر سے ۔۔۔ اگر خاوند میسج کر دے لیکن نام نہ لکھے کے کسکو تلاق دی ہے لیکن ڈر سے میسج لکھ دے۔۔۔۔ راہنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر شوہر  نے زبان سے الفاظ طلاق اَدا نہیں کیے اور گھروالوں کی طرف سےسوال میں ذکرکردہ حدتک جبرو اکراہ واقعتاًموجود تھاتو اس حالت میں شوہر کے میسج کرنےسےشرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی؛ لہٰذا بیوی شوہر کے نکا ح میں بدستور برقرار رہےگی۔

حوالہ جات

          وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية. (رد المحتار :3/ 236)

      رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان  .   (الفتاوى الهندية :1/ 379)

عبدالوحید بن محمدطاہر

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25شعبان المعظم1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب