| 86968 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے مجھ سے کریڈٹ کارڈ بنانے اور اسے فراہم کرنے کو کہا (میں اپنے نام پر بنا کر اسے فراہم کر دوں) وہ کریڈٹ کارڈ کے تمام معاملات یعنی فیس/چارجز کا ذمہ دار ہوگا اور اس کے بدلے میں وہ مجھے 1000 ڈالر کی رقم ادا کرے گا اور میں 12 مساوی ماہانہ اقساط میں 1000 ڈالر واپس دوں گا۔ میں کریڈٹ کارڈ کے فوائد استعمال نہیں کروں گا۔ کیا یہ معاہدہ اسلام کی روشنی میں ٹھیک ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کریڈٹ کارڈ اس شرط بنوا کر دینا کہ اس کے بدلے آپ کو قرض فراہم کیا جائے گا، شرعا یہ معاہدہ درست نہیں، کیونکہ ایک تو کریڈٹ کارڈ بنانا ہی شرعا درست نہیں ، کیونکہ اس میں ملنے والا قرض وقت پر ادا نہ کیا تو اضافی مالی جرمانہ سود ہےاور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرض کے بدلے کوئی بھی شرط لگانا فاسد ہے، چاہے وہ مالی شرط ہو غیر مالی، کیونکہ یہ بھی سود کے زمرے میں آتا ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : ) قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض. (رد المحتار : 166/5)
قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى: (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنه نهى عن قرض جر نفعا ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا).بدائع الصنائع395/7:)
واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
26/شعبان6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | واجد علی بن عنایت اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


