| 87019 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
ایک مسجد جو کئی سالوں سے قائم ہے، اس کے سامنے بنات کا ایک مدرسہ ہے، جہاں بازار لگتا ہے۔ اب مسجد اور مدرسہ کی تعمیر نو کا ارادہ ہے، تو کیا مسجد کو فرنٹ پر لا کر مدرسہ کو پیچھے، مسجد کی موجودہ جگہ پر تعمیر کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ اس سے بنات کے لیے بھی سہولت رہے گی اور نمازیوں کو بھی آسانی ہوگی۔ کیا شرعاً یہ جائز ہے کہ مسجد کو مدرسہ کی جگہ اور مدرسہ کو مسجد کی جگہ تعمیر کیا جائے؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جوجگہ ایک دفعہ مسجد بن جاتی ہے ، وہ شرعا ہمیشہ کیلئے مسجد ہی رہتی ہے ، اس کی مسجدیت کوختم کرنا جائز نہیں ۔ صورت مسئولہ میں جب یہ جگہ مسجد کےلئے وقف ہوئی اور اس جگہ پر شرعی مسجد بن گئی ہے،جوکئی سالوں سے آبادہے،تو تعمیر نو کے وقت مسجد کی مسجدیت کو ختم کرکے اس کی جگہ پر بنات کا مدرسہ بنا نا اور مدرسہ کی جگہ مسجد کو منتقل کرنا کسی حال میں جائز نہیں۔ انتظامیہ والوں پر لازم ہے کہ اس مسجد کو اپنی جگہ برقراررکھیں، ورنہ سخت گناہ کے مرتکب ہونگے ۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:(ويزول ملكه عن المسجدالمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه).
و قال ابن عابدین رحمہ اللہ:(قوله بالفعل) أي بالصلاة فيه، ففي شرح الملتقى: إنه يصير مسجدا بلا خلاف، ثم قال عند قول الملتقى:وعند أبي يوسف يزول بمجرد القول ولم يرد أنه لا يزول بدونه لما عرفت أنه يزول بالفعل أيضا بلا خلاف اهـ. مطلب في أحكام المسجد قلت: وفي الذخيرة وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعة فإنه يصير مسجدا .(الدرمع الرد:(355/4
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: صرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد، قال في البحر: وبه علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد وعلى قول أبي يوسف في تأبيد المسجد اهـ والمراد بآلات المسجد نحو القنديل والحصير، بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريبا من أن الفتوى على أن المسجد لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر.(الدر مع الرد:(359/4
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ :(و) كرهه تحريما (الوطئ فوقه، والبول والتغوط) لانه مسجد إلى عنان السماء.(الدرمع الرد:(707/1
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
28شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


