| 86728 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
باپ کی زندگی میں بیٹے کا انتقال ہو تو بیٹے کی وراثت ورثاء میں کس طرح تقسیم کی جاتی ہے؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ فوت ہونے والا بیٹا جب دو سال کا تھا تو ذہنی معذور ہو گیا تھا اور تقریبا 44 سال گزرنے کے بعد فوت ہوا ہے۔اس کی شادی نہیں ہوئی تھی اور ساری زندگی معذوری کی حالت میں گزری ہے۔ورثاء میں والد کے علاوہ مرحوم کی 6 بہنیں زندہ ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسئولہ میں چونکہ بیٹا ،والد کی زندگی میں فوت ہوا ہے اور جوبیٹا والد کی زندگی میں فوت ہو جائے اس کووالد کی وراثت میں سے کچھ نہیں ملتا،کیونکہ وارث بننے کے لیے ضروری ہے کہ وارث، مورث کی وفات کے وقت زندہ ہو،البتہ جو ساز و سامان (کپڑے ،جوتے وغیرہ) بیٹے کے پاس تھا وہ سارا والد کو ملے گااور بہنوں کو مرحوم بیٹے کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 758):
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،
ارسلان نصیر
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
27/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


