03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا مہر ادا کیے بغیر نکاح ہو جاتا ہے؟
86963نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میں 17 سالہ لڑکا ہوں اور  کلاس 10 میں پڑھ رہا ہوں ۔ میں نے دو گواہوں کی موجودگی میں ایک لڑکی سے نکاح کیا ۔ میں نے سنا ہے کہ مفتی صاحب نے کہا ہے کہ اگر آپ مہر المثل نہیں دے سکتے تو آپ اس لڑکی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ چونکہ میں ایک طالب علم ہوں  اور لاکھوں روپے مہر المثل کے طور پر نہیں دے سکتا۔ تواب میرا سوال یہ ہے کہ اگرمیں اس لڑکی سے مہر معاف کروا لوں تو کیا میرا نکاح درست ہوجائےگا ؟ اورمیرا یہ بھی سوال ہے کہ آیا میرا نکاح اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائز ہے، جبکہ باقی تمام شرائط پوری بھی ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے صحیح ہونے کی بنیادی شرائط یہ ہیں کہ مرد و عورت خود یا ان کے وکیل  نکاح کی مجلس  میں  شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا  ایجاب وقبول کرلیں،تو نکاح درست ہوگا۔البتہ اگر  مجلسِ نکاح  میں مہر کا ذکر نہ  ہوا ہو تب بھی  نکاح ہوجائے گا اور مہر مثل  ذمے  میں لازم ہوگا۔

نیزمہر بیوی کا حق ہے، اگر کوئی عورت اپنی رضامندی سے اپنا پورا  مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دے تو وہ مہر معاف ہو جاتا ہےاورشوہر پر مہر ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔ البتہ اگر وہ معاف نہیں کرتی توبہر حال شوہر کی ذمہ رہےگا،جب قدرت ہوجائے تو دینا لازم ہوگا۔مہر مثل کی ادائیگی پر قادر ہونا،لڑکی کے ہم پلہ ہونے کے لیے ضروری ہے۔اگر آپ خود یا آپ کا خاندان مہر مثل ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے تو آپ مالی لحاظ سے لڑکی کے ہم پلہ ہیں۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالیٰ:{وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً}[النساء: 4 ]

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر.(الدر المختار:9/3)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:) من أحدهما) أشار إلى أن المتقدم من كلام العاقدين إيجاب سواء كان المتقدم كلام الزوج، أو كلام الزوجة والمتأخر قبول ح عن المنح فلا يتصور تقديم القبول.( رد المحتار:9/3)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معًا) . على الأصح .

(الدر المختار:21/3)

قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ: وأما بيان ما يسقط به ‌كل ‌المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة۔۔۔ومنها: الإبراء عن ‌كل ‌المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط۔۔۔ومنها: هبة كل المهر قبل القبض عيناً كان أو ديناً، وبعده إذا كان عيناً. (بدائع الصنائع:295/2)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد، كما في البحر. (الدر المختار:113/3)

سخی گل  بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

/29شعبان المعظم ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب