03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کی صورت میں شوہر پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
86955طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

سوال: میں مسمی عبدالاحد بن محمد سعید صوفی کا نکاح  مسما ۃ نعیمہ عبدالاحد صوفی سے عرصہ 29سال قبل ہوا،  جس سے پانچ بچے ہیں  اور سب عاقل بالغ ہیں ۔ایک بیٹے مسمی عبدالرحمٰن کی تو شادی بھی ہو گئی ہے، جس سے ایک بیٹا ہے۔

کچھ عرصہ سے میری اہلیہ بیمار ہے، مختلف عاملوں سے ان کا علاج کرانے کی کوشش بھی کی گئی ۔ڈاکٹر حضرات سے بھی رجوع کیا، مگر وہ علاج پر آمادہ نہیں ہوتی ۔

میری بیوی اور بچے اٹاوہ سوسائٹی  نزد احسن آباد اسکیم  33کراچی میں 200گز  کے گھرمیں رہائش پذیر ہیں ۔گھر کا کرایہ ،یو ٹیلٹی بلز سمیت اخراجات کا بڑا حصہ میں دیتا ہوں جو کہ تقریباً700,00 بنتا ہے ۔کچھ اخراجات میرے دو بیٹے عبداللہ اور عمر  دیتے ہیں۔

بیماری کی وجہ سے میرے ساتھ  ناچاقی   تو کافی عرصہ سے ہے ،مگر اس میں بیوی کی طرف سےکافی شدت آگئی  ہے اور شوہر ہونے کی حیثیت سے میرے حقوق کا بالکل خیال نہیں کرتی ۔

میری دو بیٹیاں جوان اور بالغ ہیں ۔میں ان کے رشتوں کے بارے میں حد درجہ فکر مند ہوں ۔مگر میری بیوی مجھ سے خلع کا مطالبہ کرنے لگی ہے ۔میرے نزدیک میری بیوی نفسیاتی مریض ہے ۔میں بیوی  کے خلع کے مطالبہ کو بالکل غلط سمجھتا   ہوں ۔ اس لیے کہ اس مطالبہ کی کوئی معقول  بنیاد  نہیں،   بلکہ نفسیاتی مسائل ہیں جن کی وجہ سے وہ اس طرح کی حرکتیں کرتی ہے۔میں نے سسرال والوں کو بھی بتایا ،وہ بھی اس پر بہت زیادہ  ناراضگی کا اظہار کرنے لگے۔اور میں بھی خلع دینے پر بالکل راضی نہیں ۔

میں حلفیہ بیان دیتا   ہوں   کہ درج بالا باتیں بالکل درست ہیں، ان میں کوئی خلاف واقع بات  میں نے نہیں لکھی۔

اس صورت حال میں سوال یہ ہے کہ:

شرعی اور قانونی خلع میں میرے ذمہ اس بیوی اور بچوں کے اخراجات  کیا ہوں گے؟اور شرعاً  میری ذمہ داری کیا بنتی  ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب آپ خلع پر راضی ہو ں گے اورشرعی  طور پر خلع کی صورت میں طلاق دیں گےتو اس کے  بعد آپ کی بیوی پرطلاق واقع ہوجائےگی ۔اس کےبعددوران عدت بیوی کےنان نفقےکاانتظام اورآپ کی بیٹیوں کی شادی تک نفقہ آپ پرلازم ہے،جبکہ  اگر بیٹے تندرست اور بالغ ہیں تو ان کا خرچہ آپ کے ذمےنہیں ہو گا۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية:ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة.ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض. (الفتاوى الهندية:1/ 563)     

قال العلامۃ  المرغینانی رحمہ اللہ:وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به " لقوله تعالى: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] " فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال " لقوله عليه الصلاة والسلام: " الخلع تطليقة بائنة .(الهداية : 2/ 261)

    سخی گل بن گل محمد

دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی

/30 شعبان المعظم  ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب