03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عیدگاہ کی جگہ تبدیل کرکے مہمان خانہ بنانے کا حکم
86964وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گاؤں میں سرکاری زمین تھی۔ آباؤ و اجداد نے وہاں عید گاہ بنائی  اب گاؤں والے یہ چاہتے ہیں کہ اس عیدگاہ کو منہدم کرکے اس جگہ بڑا مہمان خانہ بنائیں اور عید گاہ کو مسجد کے متصل ساتھ بنادیں ۔ یہ  جائز ہے کہ نہیں ؟ اگر کسی نے ایسا کردیا تو گناہ ہوگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں یہ  زمین سرکارکی ملکیت ہے،اگر سرکار سے اجازت لی ہوتو عیدگاہ ہے ورنہ نہیں۔سرکاری زمین ہے،مہمان خانہ بنانا بھی جائز نہیں۔

حوالہ جات

  قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی :شرط الواقف كنص الشارع، فيجب اتباعه ،كما صرح به في شرح المجمع للمصنف. )رد المحتار: 4/  495(

وقال :شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع ،وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء، ما لم يكن معصية ،وله أن يخص صنفا من الفقراء ولو كان الوضع في كلهم قربة. (رد المحتار: 4/ 343)

وفي الفتاوی الھندیۃ:ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ،ولا الخان حماما ،ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.

 (الفتاوى الهندية:2/ 490)

وقال العلامۃ التمرتاشي رحمہ اللہ تعالی: فإذا تم ولزم ،لا یملک ولا یعار ولا یرھن .

 (تنویر الأبصار:539/6)

شمس اللہ

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

/29    شعبان ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب