03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حافظ بچیوں کا تراویح کی جماعت کرانا
87010نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

ہمارا بنات کا شعبہ حفظ کا مدرسہ ہے اور اس میں ہر سال بہت ساری بچیاں حفظ مکمل کرتی ہیں، ان کی گردان بھی مکمل کروائی جاتی ہے ۔پچھلے سال بچیوں کے قرآن کی پختگی کے لئے بنات کی تراویح کروائی تھی ،جس پر کئی لوگوں نے اعتراض کیا تھا ۔معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا بچیوں کو قرآن کی پختگی کی نیت سے با جماعت لڑکیوں کی تراویح کروائی جاسکتی ہے؟واضح رہے کہ تراویح کی جماعت میں صرف بچیاں ہی ہوتی ہیں اور ان کی آ واز بھی کمرے تک ہی محدود ہوتی ہے اور مکمل پردے کا انتظام ہوتا ہے۔ کیا یہ عمل کسی طرح سے جاری رکھا جاسکتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عورتوں کا گھروں میں علیحدہ جماعت کروانا مکروہ ہے،اگر چہ تراویح میں ہو، نیز خواتین کا تراویح پڑھنے کے لیے گھروں سے نکلنا ضرورت میں داخل نہیں اور بلا ضرورت گھر سے نکلنا جائز نہیں، علاوہ ازیں عموماً عورتوں کی آواز گھر کے اندر یا باہر اجنبی اور غیر محرم مردوں تک پہنچتی ہے جس سے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے،نیز خواتین کے اجتماع میں اور بھی کئی مفاسد ہیں، اس لیے خواتین کو اس سے سخت اجتناب لازم ہے ۔حافظہ لڑکیوں کو چاہئے کہ پورا سال تلاوت و منزل کا اہتمام کریں، قرآن پختہ رہے گا، قرآن کی پختگی کا بہانہ بنا کر اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی ہر گز نہ کریں۔

 (ردالمحتار مع الدر: 1/565) :

ویکرہ تحریما جماعۃ النساء، ولو التراویح في غیر صلاۃ جنازۃ۔‘‘ وفي الحاشیۃ: ’’ أفاد أن الکراہۃ في کل ما تشرع فیہ جماعۃ الرجال، فرضا أو نفلا.

راجح قول جسے اکثر فقہاء نے اختیار فرمایا ہے وہ یہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے ، لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے بعض حافظہ لڑکیاں ایسے ماحول میں گھری ہوتی ہیں کہ ان کے لئے روزانہ پابندی سے منزل پڑھنا ممکن نہیں ہوتا ، لہذا جن حافظہ لڑکیوں کی واقعتاً ایسی مشغولیت ہو کہ پورا سال روزانہ اہتمام سے قرآن نہ پڑھ سکتی ہوں اور ان کے لیے قرآن یاد رکھنے کی واحد صورت یہی ہو کہ رمضان میں تراویح میں سنائیں تو ان کے لیے اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ تراویح کی جماعت کروانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اس کا اہتمام کریں کہ ان کی آواز کسی غیرمحرم تک نہ پہنچے۔ (تراویح کے مسائل :المفتی آن لائن)

لہٰذا اگر بچیاں مدرسے  میں ہی رہائش پذیر ہو ں،یا وہ پڑھائی کے بعد گھر نہ جائیں اور تراویح کے لئے رکے رہیں،اسی طرح صرف مدرسے کی بچیاں ہوں ،باہر سے کسی کو نہ بلایا جاتا ہو ،تواس کی  گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔

حوالہ جات

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دا الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

30/شعبان /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب