| 87016 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
امریکہ میں سودی بینکاری کا نظام رائج ہے ، جو دیندار لوگ امریکہ میں رہتے ہیں اور وہاں سودی بینکوں میں ان کے اکاؤنٹ موجود ہیں ، جب اکاؤنٹ میں سود کی رقم جمع ہو جاتی ہے تو اس کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟ اگر صحیح ہے تو کیوں ؟ براہ مہربانی تسلی بخش جواب دیجیے گا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسلم ممالک کی طرح غیر مسلم ملک میں بھی سودی معاملہ(سود لینا اور دینا) کرنا جمہور محققین کےنزدیک مفتی بہ قول کے مطابق حرام ہے ۔ امریکہ میں بھی غیر سودی بینکاری کے ادارے قائم ہیں، ان سےمالی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں ۔لیکن اگر پھر بھی کسی جگہ غیر سودی بینکاری کی سہولت بالکل نہ ہو تو انتہائی مجبوری کی صورت میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوایا جا سکتا ہے ،سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس میں پیسے رکھوانا جائز نہیں۔ تاہم اگر کسی کے سودی بینک کے اکاؤنٹ میں سود کی رقم جمع ہو جائے ، تو ایسی رقم کا ثواب کی نیت کیے بغیر کسی مستحق کو دینا ضروری ہے،بینک میں چھوڑناگناہ ہے ،کیونکہ بینک میں چھوڑنے کی صورت میں سود خوروں کی اعانت ہے ۔اس لئے بھی کہ یہ نفع خلاف شریعت اور فاسد نفع ہے جو" لقطہ " کے حکم میں ہے ،اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ اگر ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو لقطہ اٹھانا واجب ہے،پھر مالک پر رد ممکن نہ ہو تومالک کی طرف سے بلا نیت ثواب مساکین پر تصدق واجب ہے۔ اسی طرح اگر مسلمان ان بینکوں میں رکھی گئی اپنی رقوم کے سود کو چھوڑ دیں، تو اس سے مغربی ممالک کو تقویت ملنے کاامکان ہے ،لہٰذا اپنی جمع شدہ رقوم کے فوائد لے کر انہیں خیر کے کاموں میں بغیر ثواب کی نیت کے صرف کرنا واجب ہے ۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (:(275-79/01
﴿واحل الله البيع وحرم الربوا﴾
ﵟفَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَﵞ
صحيح مسلم (کتاب المساقات،دار احیاء التراث ، بیروت 03/1219):
عن جابِرٍ، قال:لعن رسول الله صلَّى اللهُ عليه وسلّم اٰكل الرِبا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهدَيْه،وقال :
"هم سواء"۔
(رد المحتار: 553/9):
ویردونہا علی أربابہا إن عرفوھم، وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ .
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (3/ 121):
وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يثبت بينهما الربا في دار الحرب
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص359):
أما البنوك التي يملكها غير المسلمين في البلاد غير المسلمة فقد ذهب العلماء المعاصرين إلى جواز الإيداع فيها والانتفاع بالفوائد الحاصلة منها على أساس قول الإمام أبي حنيفة رحمه الله من أنه يجوز أخذ مال الحربي برضاه وأنه لا ربا بين المسلم والحربي. وإن هذا القول لم يقبله جمهور الفقهاء حتى إنه لم يفت به الفقهاء المتأخرون منهم الحنفية. وبما أن حرمة الربا منصوص عليها بنص قطعي يؤذن بحرب من الله ورسوله لمن لا يتركه، فلا ينبغي في عموم الأحوال أن يدخل المسلم في معاملة الربا، وإن كانت مع الحربيين. ولكن هناك نقطة جديرة بالتأمل. وهي أن البلاد الغربية قد سيطرت اليوم على عامة بلاد المسلمين، وإن من أهم عوامل غلبتهم ما غصبوا من الأموال الجمة من بلاد المسلمين، أو أخذوها عن طريق الربا على القروض التي استقرضها منهم تلك البلاد. وفي جانب آخر، إن هذه البلاد تحوز كميات هائلة من أموال المسلمين التي أودعها المسلمين في بنوكهم، ينتفعون بها لصالحهم، بل يستخدمونها لإنجاز خططهم السياسية والحربية ضد المسلمين، فلو ترك المسلمون فوائد أموالهم في تلك البنوك، فإن ذلك تقوية لهم. وإن هذه الظروف قد تجعلني أميل إلى القول بأن المسلمين يجوز لهم أن يأخذوا فوائد ودائعهم، ولكن لا ينبغي أن يصرفوا مبالغ الفائدة في حاجاتهم، بل ينبغي أن يصرفوها في وجوه البر، فإن ذلك يقلل من الأضرار التي يعانيها المسلمون بإيداع أموالهم عندهم.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار(ص355):
(ندب رفعها لصاحبها) إن أمن على نفسه تعريفها وإلا فالترك أولى.وفي البدائع: وإن أخذها لنفسه حرم لانها كالغصب (ووجب) أي فرض.(فتح) وغيره (عند خوف ضياعها) كما مر، لان المال المسلم حرمة كما لنفسه، فلو تركها حتى ضاعت أثم، وهل يضمن؟ ظاهر كلام النهر لا، وظاهر كلام المصنف نعم.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
26/شعبان /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


