03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رینٹ ٹو اون(Rent-to-Own) کا حکم اور اس کی جائز صورت
87008سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میں گاڑی لینا چاہتا ہوں مگر میرے پاس گاڑی کی پوری قیمت ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ بینک سے میں قرض نہیں لے سکتا، کیونکہ وہ مکمل سود ی معاملہ ہوتا ہے۔ یہاں بہت سے پاکستانی بھائی گاڑی فروخت کرنے کی ایک صورت اختیار کرتے ہیں جسے رینٹ ٹو اون کہا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ  مثلاً          گاڑی کی قیمت 15000 ڈالر ہے،مجھے  آغاز میں باہمی اتفاق سے  گاڑی کی قیمت کامثلاً 30% بطور بیعانہ ادا کرنا ہوگا، پھر ہر ہفتہ 250 ڈالر دینے ہوں گےجن میں175 $ گاڑی کی قیمت کے مد میں اور $ 75کرایہ کی مد میں ،اس میں اضافہ تو کر سکتا ہوں لیکن کمی نہیں  ۔ مجھے یہ کرایہ اس وقت تک دینا ہوگا جب تک میں گاڑی کی مکمل قیمت ادا نہ کردوں۔ چاہے 3 سال میں دوں یا 5 سال میں، ادئیگیوں تک گاڑی کی ملکیت مالک کے پاس ہوگی ،ادائیگیاں مکمل کرنے کے بعد مجھے منتقل ہوگی ۔ گاڑی کے تمام اخراجات اور دیکھ بھال کا ذمہ دارمیں  ہوں گا۔ رہنمائی فرمائیں کہ یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو اس کا جائز متبادل کیاہے  ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رینٹ ٹو اون(Rent-to-Own)کی جو معروف صورت اکثر ملکوں میں رائج ہے ،وہ جائز نہیں ہے کیونکہ  اس میں ابتداء گاڑی کسٹمر کو کرایہ (Rent) پر دی جاتی ہے اور پھر آخر میں خریداری  کا الگ سے عقد کئے بغیر گاڑی کسٹمر کے حوالہ کی جاتی ہے ،اس طرح سوال میں مذکور صورت میں بھی کرایہ اور خریداری کے معاملے کو ایک دوسرے میں ضم کیا جارہا ہے جو کہ شریعت  کی نظر میں" صفقہ فی صفقہ "ہو نے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

اگر اس عقد کو شرکت متناقصہ کے طور پر کیا جائے ،یعنی  سب سے پہلے گاڑی کا مالک  کلائنٹ  سے ابتداء میں کچھ رقم مثلا30% لے کر کسٹمر کو گاڑی میں اپنے ساتھ شریک بنائے۔ پھر مالک  کے حصے کو مختلف یونٹس میں تقسیم کیا جائے اور کلائنٹ مختلف اوقات میں مالک  کے حصے کا ایک ایک یونٹ مثلاًہر ہفتہ فی یونٹ175$ میں  خرید تا جائے ، جس کے نتیجے میں کلائنٹ کا حصہ گاڑی  میں بڑھتا جائےگا اور مالک کا حصہ کم ہوتا جائے گا۔ مالک کے حصے کے جتنے یو نٹس ابھی تک کلائنٹ نے نہیں خریدے ، ان حصوں کو کلائنٹ اپنے استعمال میں لائے گا اور اس کے بدلے مالک  کو کرایہ ادا کرےگا، چونکہ یونٹس کی خریداری کی وجہ سے مالک  کا حصہ کم ہوتا جائےگا ، اس لیے کرایہ میں بھی اسی تناسب سے کمی ہوتی رہے گی۔اس میں اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ گاڑی کی مشترکہ خریداری ، یونٹس کی خریداری اور کرایہ  کا معاہدہ الگ الگ کیا جائے، ایک سودے میں دونوں معاملے جمع کرنا، یا ایک کو دوسرے کے ساتھ مشروط کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

( بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ1/15):

ومما یجب التنبیه علیه هنا: أن ما ذکر من جواز هذا البیع إنما هو منصرف إلی زیادة في الثمن نفسه، أما ما یفعله بعض الناس من تحدید ثمن البضاعة علی أساس سعر النقد و ذکر القدر الزائد علی أساس أنه جزء من فوائد التأخیر في الأداء، فإنه ربا صراح. وهذا مثل ان یقول البائع: بعتك هذه البضاعة بثماني ربیات نقدا، فإن تأخرت في الأداء إلی مدة شهر فعلیك ربیتان علاوة علی الثمانیة، سواء سماها فائدة (Interest) أو لا؛ فإنه لا شك في کونه معاملة ربویة؛ لأن ثمن البضاعة إنما تقرر کونه ثمانیة، وصارت هذه الثمانیة دینا في ذمة المشتري، فما یتقاضی علیه البائع من الزیادة فإنه ربا لا غیر

فقه البیوع: (505/1):

ومن قبیل زیادۃ الشرط فی البیع ما یسمی "صفقۃ فی صفقۃ"، وھو أن یشترط فی العقد عقد آخر.... والأصل فی ذلک ما روی عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال:"نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن صفقتين فی صفقۃ واحدۃ"....وعلی أساس ھذا الحدیث ذھب جمھور العلماء الی أن اشتراط صفقۃ فی صفقۃ أخری لایجوز. قال ابن قدامۃ رحمہ اللہ تعالی: "وھکذا کل ما فی معنی ھذا، مثل أن یقول: بعتک داری ھذہ علی أن أبیعک داری الأخری بکذا أو علی أن تبیعنی دارک، أو علی أن أوجرک أو علی أن توجرنی کذا...

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

25/شعبان /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب