03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے وفات پانے والے کا حصہ ان کی اولاد کومنتقل ہوگا
87028میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

دادا کے انتقال کے بعد میراث کی تقسیم میں کئی سال  تاخیر ہوئی، اس دوران مرحوم کے ایک بیٹے کا  انتقال ہو گیا۔ اب بعض ورثہ کا کہنا ہے کہ اس مرحوم بیٹے کی اولاد کو دادا کی میراث میں حصہ نہیں ملے گا۔ براہ کرم اس معاملہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد  کی وفات کے ساتھ ہی اس کی اولاد اپنے اپنے شرعی حق کے بقدر مرحوم کے ترکہ کی حق دار ہوجاتی ہے، پس تقسیمِ ترکہ سے پہلے اگر کسی وارث کا انتقال ہوجائے تو اس کا حصہ اس کے ورثاء کو منتقل ہوجاتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جس وارث کا تقسیم سے پہلے انتقال ہوگیا ہے اس کے ورثاء اپنے دادا کی میراث میں سے اپنے مرحوم والد کے حصے کے حقدار ہوں گے۔

واضح رہےکہ  اگر دادا کی زندگی میں ہی ان کی اولاد میں سے کسی کا انتقال ہوجائے، اور دادا کا بعد میں انتقال ہوا ہو تو اس صورت میں دادا کی حقیقی اولاد میں بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتے پوتیوں کے لیے شرعی حصہ مقرر نہیں ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:‌‌فصل في المناسخة (مات بعض الورثة قبل القسمة للتركة صححت المسألة الأولى) وأعطيت سهام كل وارث (ثم الثانية)الخ.

وقا ل ابن عابدین رحمہ اللہ :هي مفاعلة من النسخ بمعنى النقل والتحويل والمراد بها هنا أن ينتقل نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه. (الدرمع الرد:(801/6

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

02/رمضان المبارک1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب