03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح نامہ میں تفویض طلاق کے الفاظ دیکھے بغیر دستخط کرنےکاحکم
87058طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

زینب جوکہ زید کی بیوی ہے، کی ماں نے نکاح خواں سے کہا کہ نکاح نامے میں ماہانہ دس ہزار روپے جیب خرچ کی شرط درج کی جائے۔ نکاح خواں نے غلطی سے یہ شرط تفویضِ طلاق والے خانے میں درج کر دی، اس عبارت کے ساتھ کہ اگر زید ہر ماہ دس ہزار روپے ادا نہ کرے گا تو زینب کو طلاق کا اختیار حاصل ہوگا اور وہ اپنے اوپر طلاق واقع کر سکے گی۔

زید نے نکاح نامہ مکمل پڑھے بغیر اس پر دستخط کر دیے، کیونکہ اس کی نیت طلاق تفویض کرنے کی ہرگز نہ تھی۔ بعد میں جب زید نے نکاح نامہ دیکھا تو زینب اور اس کی ماں سے استفسار کیا۔ دونوں نے حلفیہ بیان دیا کہ انہوں نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ زید کو شبہ ہے کہ زینب کی ماں نے یہ کام جان بوجھ کر کروایا ہے۔

زید نے طلاق کے مسئلے میں فقہ شافعی پر عمل کیا، جس کے مطابق تحریری طلاق کنایہ شمارہوتی ہے، جس میں  اگر شوہر کی نیت نہ ہو تو نہ طلاق واقع ہوتی ہے، نہ طلاق تفویض ہوتی ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا وکیل بن سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا زید دیوبندی مسلک سے خارج ہو جائے گا؟ اور کیا زینب کو طلاق کا اختیار حاصل ہو جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں نادانستہ شوہر نے تفویضِ طلاق کا خانہ دیکھے بغیر دستخط کیے ہیں، جبکہ زینب  اور اس کی  ماں کا حلفیہ بیان بھی یہی ہے کہ نکاح خواں نے ان کے کہنے پر ایسا نہیں کیا، بلکہ غلطی سے تفویض کو معلق کرنے کی بات لکھ دی گئی۔ اس صورت میں، حنفی مذہب کے مطابق بھی تفویضِ طلاق ثابت نہیں ہوئی، اور زینب کو طلاق کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جو شخص فقہاء میں سے جس  امام کا پیروکار ہے، اس پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ تمام مسائل میں اسی کی اتباع کرے۔ اگر کوئی شخص اپنی خواہش کے مطابق ایک مسئلے میں ایک امام کی اور دوسرے میں کسی اور امام کی اتباع کرے تو یہ خواہش پرستی ہوگی، جس کے ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ البتہ، ایک بار ایسا کرنے سے وہ اپنے مذہب سے خارج نہیں ہوتا۔ لہٰذا، مذکورہ صورت میں زید حنفی مذہب سے خارج نہیں ہوا، تاہم آئندہ اس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ولو ‌استكتب من آخر كتابا بطلاقها ،وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها، فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابہ أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه، لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه ،لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ .   (رد المحتار : 3/ 247)

قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃ رحمھم اللہ:وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه ،لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه، كذا في المحيط.(الھندیۃ:(398/1

وفی الدر المختار: وأن الحكم الملفق باطل بالإجماع، وأن الرجوع عن التقليد بعد العمل باطل اتفاقا، وهو المختار في المذهب اھ.(الردعلی الدر:(75/1
قال ابن  عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ: (قوله: وأن الحكم الملفق) المراد بالحكم، الحكم الوضعي كالصحة. مثاله: متوضئ سال من بدنه دم ولمس امرأة ثم صلى فإن صحة هذه الصلاة ملفقة من مذهب الشافعي والحنفي والتلفيق باطل، فصحته منتفية. اهـ.(الردعلی الدر:(75/1

وقال رحمہ اللہ أیضاً: (قوله: وأن الرجوع إلخ).....وكما لو أفتى ببينونة زوجته بطلاقها مكرها، ثم نكح أختها مقلدا للحنفي بطلاق المكره، ثم أفتاه شافعي بعدم الحنث، فيمتنع عليه أن يطأ الأولى مقلدا للشافعي والثانية مقلدا للحنفي. (الردعلی الدر:(75/1

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم                                                                                                                                               

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

3رمضان المبارک 1446ھ                                      

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب