03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیداد ہبہ کر کے اس سے رجوع کا حکم
87006ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ واپس کرنے کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اول خان ولد رفیع الدین اور شہباز خان ولد اول خان نے جائیدادسے  اپنا اپنا نصف حصہ تنویر عالم، مجیب عالم ،محبوب عالم ،پسران ممتاز عالم مرحوم کو  قبضہ  کے ساتھ تملیک کر دیا، یعنی اول خان نے اپنے نواسوں اور شہباز خان نے بھتیجوں  کواپنا اپنا نصف حصہ دے دیا۔ اب کیا   اول خان اور شہباز خان اس تملیک نامہ کو ختم (منسوخ ) یا اس سے رجوع کر سکتے ہیں؟

سوال کی تنقیح: سائل سے رابطہ کر کے معلوم ہوا  کہ    اول خان اور شہباز خان کا مشترکہ گھر   تھا جو انہوں نے ان سب  (تنویر عالم ،مجیب عالم،محبوب عالم )کو بالقبض  ہبہ کیاتھا  ۔ گھر  تقریبا تینتالیس مرلے پر مشتمل ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعا اگر کوئی شخص دو یا دو سے زیادہ بندوں کو کوئی  قابل تقسیم چیز ہبہ (گفٹ ) کرنا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس  چیز  کو تقسیم کرکے ان کے  قبضہ میں دے۔ اگر ہبۃ میں دی ہوئی چیز واہب (گفٹ دینے والا) کی ملکیت کے ساتھ مشغول یا مشترک  ہو،یا جن کو وہ چیز  ہبہ (گفٹ ) کی جارہی ہوان کے حصے آپس میں مشترک ہوں تو یہ ہبہ  شرعا جائز  نہیں ہے۔

 اس لیےصورت مسئولہ میں اول خان  اور شہباز خان کااپنےمشترکہ  گھر  کو بغیر تقسیم کے تنویر عالم، مجیب عالم اور محبوب عالم کو ہبہ کرنا  شرعادرست  نہیں ہوا،چنانچہ اول خان اور شہباز  خان کی  ملکیت حسبِ سابق  برقرار ہے،لہذا  ان  کے لئے اس  سے رجوع کرکے تملیک نامہ  کومنسوخ کرنا جائز ہے، البتہ  بہتر یہ ہے کہ  واہبین   ہبہ سے رجوع کرنے کے بجائے اس کار خیر کو دوبارا درست طریقے سے انجام دے کر برقرار رکھے،  تاکہ  آپس میں محبت و مودت  بڑھے ، رسول اللہ ﷺ نے ہبہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا  کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو ،اس سے آپس میں محبت  بڑھتی ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ ہدیہ دینے سے آپس میں رنجشیں دور ہوتی ہیں، دل کی سختی ختم ہوتی ہے ، اس لئے  گھر کو واپس لینے کی بجائے اس کو   تقسیم کرکہ تینوں کو ان کا حصہ الگ کرکے ان کے حوالے کرنا   چاہئے۔

حوالہ جات

  «الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 223):

«قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة"»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 119):

«(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن ونحوها وهذا عندنا»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 286):

«وقيد المشاع بما لم يقسم لأن هبة المشاع الذي تمكن قسمته لا يصح»

الدر المختار (5/ 692):

( ولو سلمه شائعا لا يملكه فلا ينفذ تصرفه فيه ) فيضمنه وينفذ تصرف الواهب،  درر.   لكن فيها عن الفصولين:  الهبة الفاسدة تفيد الملك القبض، وبه يفتى، ومثله في البزازية عل خلاف ما صححه في العمادية، لكن لفظ الفتوى آكد من لفظ الصحيح، كما بسطه المصنف مع بقية أحكام المشاع. وهل للقريب الرجوع في الهبة الفاسدة؟ قال في الدرر: نعم!، وتعقبه في الشرنبلالية بأنه غير ظاهر على القول المفتى به من إفادتها الملك بالقبض، فليحفظ

«تفسير الأحلام = منتخب الكلام في تفسير الأحلام» (2/ 333):

«قيل إن الهدية المحبوبة تدل على وقوع صلح بين المهدي والمهدى إليه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌تهادوا تحابوا.»

«التحف والهدايا» (ص24 بترقيم الشاملة آليا):

«وحدثني أبو الخطاب قال: حدثنا بشر بن النفضل عن يونس عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لو أهديت لي ذراع لقبلت، ولو دعيت لي كراع لأجبت) .

وفي حديث آخر: (‌تهادوا تحابوا فإن الهدية تفتح الباب المصمت وتسل سخيمة القلب) .»

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

01/رمضان 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب