03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“تم آزاد ہو” کے الفاظ سے طلاق کا حکم
87003طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

موبائیل میسج پر لڑائی ہوئی ۔بیوی نے کہا مجھے چھوڑ دو ۔میں نے بیوی سے کہا ایسے نہ کہو،اس نے دوبارہ کہا مجھے چھوڑ دو۔میں نے کہا: تم آزاد ہو میری نیت طلاق کی نہیں تھی نہ مجھے معلوم تھا  کہ ایسا کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ،بعد میں بیوی نے بتایا  کہ آپ نے غلط الفاظ بول دئے ہیں لیکن  بعدمیں صلح ہوگئی۔

4 مہینے بعد دوبارہ لڑائی ہوئ گھر کے کام پر،  بیوی نے کہا یہ نہیں کروں گی ۔میں نے کہا پھر تم فارغ ہو لیکن اس وقت طلاق کی یا چھوڑنے کی بات نہیں ہو رہی تھی۔مجھے بعد میں محسوس ہوا کہ میں نے غلط الفاظ بول دئےہیں۔

ہماری کتنی طلاق ہو ئی ۔مذکورہ جملے بولتے وقت میری طلاق کی نیت    نہیں تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

" تم   آزاد ہو " ان الفاظ کا مدار عرف(رواج )  پر ہے، اگر    عرف میں ان الفاظ کو طلاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہو تو اس سے ایک طلاق  صریح واقع ہوگی ،   اور اگر  عرف میں ان الفاظ کو طلاق کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے توبھی یہ طلاق کے ان کنائی الفاظ میں سے ہوتا ہے جن سے مذاکرہ طلاق یا غصے کی حالت میں بلا نیت  ایک  بائن طلاق     واقع  ہوتی ہے۔دوسری قسم کے الفاظ " تم فارغ ہو"    یہ کنائی الفاظ میں سے ہیں جو صرف جواب بننے کا احتمال رکھتے ہیں اور قرینے  کی موجودگی کی صورت میں ایسے الفاظ سےبھی بغیر نیت کےایک  طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔اس تمہید کی روشنی میں صورت مذکورہ کے حکم میں درج ذیل تفصیل ہے:

1۔ صورت مذکورہ میں  "تم آزاد ہو "  اگر شوہر کی برادری یا اھل زبان کے عرف میں طلاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہو تو ان الفاظ سے ایک طلاق واقع ہوئی تھی اور صلح کرنے کی وجہ سے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار باقی تھا،  لیکن جب دوبارہ  لڑائی کے دوران شوہر نے ان الفاظ سے طلاق دی  کہ "تم فارغ ہو"  تو اس سے  ایک اور طلاق بائن واقع ہوگئی تھی۔طلاق بائن دینے کی وجہ سے اب  بغیر نکاح کے  میاں ، بیوی کا آپس میں تعلق رکھنا شرعاجائز نہیں ہے ، دوبارہ گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا  ضروری ہےاور دوبارہ نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار  باقی ہوگا۔

2۔اگر  شوہر کی براداری یا اھل زبان میں   " تم آزاد ہو "  کے الفاظ،  طلاق کے لئے استعمال نہیں ہوتے ، تو صرف ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے اور چونکہ یہ طلاق ،  بائن طلاق ہے اس  لئے اس صورت میں بھی ایک طلاق بائن ہونےکی وجہ سے دوبارہ نکاح ضروری ہے بغیر نکاح کے تعلق رکھنا شرعا حرام ہے، اب تک جو تعلقات رکھے ہیں اس پر بھی  اللہ تعالی سے توبہ اور استغفار کریں  ۔  آئندہ نکاح ہونے کی صورت میں شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 101)

إذا قال لامرأته: كوني حرة أو عتقى ولو قال: يا مطلقة وقع عليها الطلاق؛ لأنه وصفها بكونها مطلقة ولا تكون مطلقة إلا بالتطليق، فإن قال: أردت به الشتم لا يصدق في القضاء؛ لأنه خلاف الظاهر.

رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 252)

ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف، (قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."

رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 308)

(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال"

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

          ١  /رمضان/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب