| 87035 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میرے بھائی اور کزن وغیرہ آن لائن Grammarly,QuillBot, Turnitin,Wordtune,Ms office ,Chatgptوغیرہ کے اکاؤنٹس سیل کرتے ہیں اور میں بطورِ ریسیلر کام کرتا ہوں مثلاً ایک اکاؤنٹ جو ہماری ای میل پر ہوتا ہے،جو کہ ہم مختلف ویب سائٹس سے خریدتے ہیں، اس سروس کو متعدد کسٹمرز کو متعین مدت تک فراہم کرتے ہیں جیسے Quillbot کا اکاؤنٹ میری ای میل پر ہے، اس کا پاسورڈ میرے اختیار میں ہے، میں اس کو چند کسٹمرز سے سیل کرتا ہوں اور سیل سے مراد متعین مدت کا معاہدہ ہوتا ہے کہ میں آپ کو Quillbot کےاکاؤنٹ کی سروس فراہم کروں گا اتنے سو روپے کے عوض وغیرہ اور دوران مدت اگر کوئی ایشو آئے تو میری زمہ داری ہے کہ ایشو حل کروں یا نیو اکاؤنٹ دوں اور یہ بات معاہدہ کے وقت صراحت سے ہم کہہ دیتے ہیں کہ اکاؤنٹ کام نہ کرے تو رابطہ کرنا ۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟ یعنی متعدد کسٹمرز کو سیل کرنا اور اکاؤنٹ کی سروس کا فروخت کرنا ؟اور بعض مرتبہ ہم ریفنڈ بھی کرتے ہیں جب ایشو حل نہ ہو ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سائل مذکورہ سافٹ ویئرز ((Chatgpt,Grammarly,QuillBot,Turnitin,Wurdtun,Ms office کے اکاؤنٹس کی سروس طے شدہ معاہدے کے مطابق متعین مدت کےلیے فراہم کرتا ہو اور اس میں کسی قسم کا دھوکہ نہ ہوتو اس صورت میں ان اکاؤنٹس کی سروس فراہم کرنے کے عوض رقم لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة الکاساني رحمه الله: وذكر بعض المشايخ أن الإجارة نوعان إجارة على المنافع، وإجارة على الأعمال، وفسر النوعين بما ذكرنا وجعل المعقود عليه في أحد النوعين المنفعة وفي الآخر العمل وهي في الحقيقة نوع واحد لأنها بيع المنفعة فكان المعقود عليه المنفعة في النوعين جميعا، إلا أن المنفعة تختلف باختلاف محل المنفعة فيختلف استيفاؤها باستيفاء منافع المنازل بالسكنى. (البدائع الصنائع:4/175)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
5 رمضان ، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


