| 87064 | علم کا بیان | تبلیغ کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت مفتی صاحب! سلام مسنون کےبعد معلوم یہ کرنا ہے کہ بعض دفعہ آدمی کا تبلیغ میں وقت لگانے کا ارادہ نہیں ہوتا ،مگر تبلیغ والے اصرار کرتے ہیں باوجود یہ کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کا بالکل ارادہ نہیں ہے۔ایسے میں نام لکھوانا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرپہلےسے ارادہ نہ ہو تو نام لکھوانےسےپہلے ارادہ کر لینا چاہیے،ارادہ کرنے میں بڑاوقت یا کوئی خرچہ تو نہیں لگتا،اگر ارادہ کرنےکے بعد وقت لگانے سے کوئی عذر پیش آجائے تو معذرت کر لیں ۔اور اگر نام لکھوادیا اور کوئی معقول عذرنہیں ہے تو وقت لگا لیں ،تبلیغ میں وقت لگانے سےفکر آخرت پیدا ہو تی ہے ،احکام پر عمل کرنےکا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
حوالہ جات
﴿وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةࣱ یَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَیۡرِ وَیَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَیَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُو۟لَٰۤئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ 104﴾ [آل عمران: 104-105]
قال شهاب الدين: قوله: الخلف في الوعد حرام.
قال السبكي: ظاهر الآيات والسنة تقتضي وجوب الوفاء، وقال صاحب العقد الفريد في التقليد: إنما يوصف بما ذكر أي بأن خلف الوعد نفاق إذا قارن الوعد العزم على الخلف كما في قول المذكورين في آية {لئن أخرجتم لنخرجن معكم} [الحشر: 11] فوصفوا بالنفاق لإبطانهم خلاف ما أظهروا وأما من عزم على الوفاء ثم بدا له فلم يف بهذا لم يوجد منه صورة نفاق كما في الإحياء من حديث طويل عند أبي داود والترمذي مختصرا بلفظ «إذا وعد الرجل أخاه، ومن نيته أن يفي فلم يف فلا إثم عليه».
(غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر: 3/ 236)
محمد اسماعیل بن محمداقبال
دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی
06/ رمضان المبارک 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن محمد اقبال | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


