| 87072 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرسکتا ہےکہ نہیں ؟ اگر کرسکتا ہے تو کس حساب سے ؟سب کو برابر تقسیم کرے یا کسی کو زیادہ اور کسی کو کم دےسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرکوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیدادوغیرہ اولادمیں تقسیم کرنا چاہےتوتقسیم کرسکتاہے۔چنانچہ اس صورت میں ہرایک کو جوحصہ ملےگاوہ ہبہ کےحکم میں ہوگا۔جب کوئی ہبہ کرکےاولاد میں جائیدادتقسیم کرناچاہےتواسے چندباتوں کاخیال رکھناضروری ہے:
1: سب ورثہ میں برابرتقسیم کرے،البتہ اس کی بھی اجازت ہےکہ وراثت کےحصوں کےمطابق تقسیم کرے۔
2: اولادمیں سےکسی کومکمل محروم کر ناجائزنہیں،البتہ کسی معقول وجہ ترجیح کے(مثلا:کسی کوغریب ہونےیاخدمت گارہونے)کی وجہ سےاگرکچھ زیادہ ہبہ کرناچاہے تواس کی گنجائش ہے ۔ بلاوجہ ناانصافی کرنےکی وجہ سے والدسخت گناہ گارہوگا۔
حوالہ جات
باب: الهبة للولد، وإذا أعطى بعض ولده شيئا لم يجز، حتى يعدل بينهم ويعطي الآخرين مثله، ولا يشهد عليه.وقال النبي صلى الله عليه وسلم: اعدلوا بين أولادكم في العطية.
(صحيح البخاري:2/ 913: 2444)
عن الشعبي، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة لا أرضى حتى تشهد من الأشهاد رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني قد أعطيت ابني من عمرة عطية وإني أشهدك. قال: أكل ولدك أعطيت مثل هذا؟ قال لا، قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم فليس في هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره برد الشيء وإنما فيه الأمر بالتسوية. (شرح معاني الآثار :4/ 86: 5837)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی :وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى. (الدر المختار ،ص:562)
في الفتاوی الھندیۃ:ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض.
( الفتاوى الهندية:4/ 374)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/8 رمضان ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


